کولکتہ :بجرنگ دل کے کارکنوں کی مسلم گوشت فروشوں کو دھمکیاں، ویڈیوسوشل میڈیا پر وائرل

کولکتہ : بھارتی ریاست مغربی بنگال کے شہر کولکتہ کے علاقے جادوپور سے ایک چونکا دینے والا ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس میں ہندوتوا تنظیم بجرنگ دل کے حامی مسلم گوشت فروشوں کو گالیاں اور توہین آمیز زبان استعمال کرتے ہوئے شدید دھمکیاں دے رہے ہیں۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق ویڈیو میں بجرنگ دل کے کارکن مسلم دکانداروں سے سخت لہجے میں سوال کرتے دکھائی دے رہے ہیں: "جب یہاں ہندوؤں کی اکثریت ہے تو تم لوگ گوشت فروخت اورجانور ذبح کیوں کر رہے ہو؟ ترنمول کانگریس کی حکومت سب ختم ہو چکی ہے۔ حلال گوشت کا کاروبار فوری بند کرو اور جلد از جلد یہ علاقہ چھوڑ دو۔”بجرنگ دل کےارکان نے دکانداروں کو واضح طور پر دھمکی دی کہ اگر انہوں نے اپنا کاروبار بند نہ کیا تو انہیں سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔اس واقعے نے مغربی بنگال میں تشویش کی لہرپیداکردی ہے، خاص طور پر اس لیے کہ حالیہ مہینوں میں ریاست میں ہندوتوابی جے پی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے بعد مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں خطرناک اضافہ رپورٹ کیا گیا ہے۔ صرف مئی کے مہینے میں ہی ریاست بھر سے ایسے کم از کم 10 واقعات سامنے آئے ہیں۔مقامی ذرائع کے مطابق، مقبوضہ کشمیر کی طرح مغربی بنگال میں بھی ہندوتوا گروپس حلال گوشت کی فروخت پر پابندی کے لیے منظم مہم چلا رہے ہیں، جس کا مقصد مسلمانوں کوبےروزگار کرنا ہے۔اس ویڈیو نے سماجی رابطوں کی پلیٹ فارمز پر وسیع پیمانے پر مذمت کو جنم دیا ہے، جہاں صارفین نے اس اقدام کو فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے خلاف سازش قرار دیتے ہوئے مودی حکومت سے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
یاد رہے کہ مغربی بنگال میں حالیہ دنوں میں مذہبی اور سیاسی کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، اور یہ واقعہ اس بڑھتے ہوئے رجحان کی تازہ ترین مثال ہے جہاں اقلیتی برادری کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔







