فلم ”ستلج “ پر پابندی پنجاب کی تاریخ کے درناک باب کو دبانے کی کوشش ہے، ایس یو ایف

جموں :بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں سکھ یونائیٹڈ فرنٹ (ایس یو ایف ) نے فلم ’ستلج‘ پر پابندی کے بھارتی حکومت کے اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے پنجاب کی تاریخ کے ایک دردناک باب کو دبانے کی کوشش قرار دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ایس یو ایف کے چیئرمین سدرشن سنگھ وزیر نے جموں میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ کھالرا کی زندگی اور کام پر مبنی فلم کو ریلیز کے فوراً بعد اسٹریمنگ پلیٹ فارم سے ہٹا دیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ ستلج1980، 1990 کی دہائی میں پنجاب میں ہونے والی شورش کے دوران سکھوں کے ماورائے عدالت قتل ، گمشدگی اور دیگر مظالم کی کی عکاسی کرتی ہے۔
سدرشن سنگھ وزیر نے کہا کہ فلم کو ہٹانا سچائی کو عوام تک پہنچنے سے روکنے اور سکھ تاریخ کے ایک اہم حصے کو دبانے کی کوشش ہے۔
ایس یو ایف کے چیئرمین نے گوردوارہ کمیٹیوں پر زور دیا کہ وہ فلم کی کمیونٹی اسکریننگ کا اہتمام کریں ۔ انہوں نے بھارتی حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ ستلج تک عوام کو غیر محدود رسائی کی اجازت دے کر شفافیت، انصاف اور آزادی اظہار کو یقینی بنائے۔
یاد رہے کہ انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ کھالڑا پر بنی فلم ”ستلج“ کو بھارت حکومت نے سکیورٹی خدشات کا بہانہ بنا کر روک دیاہے۔
فلم ستلج 3 جولائی کو ریلیز ہوئی تھی، لیکن اسے 5 جولائی کو پلیٹ فارم سے ہٹا دیا گیا ہے جس کے بعد ایک تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ فلم پر پابندی کے باجود بھارتی حکومت شہریوں کو فلم دیکھنے سے روک نہیں پارہی کیونکہ بہت سے مقامات پر شہریوں نے فلم ڈاو¿ن لوڈ کرکے بڑے پردے پر چلا دی جہاں دیکھنے والوں کا رش لگ گیا ۔ستلج فلم میں مرکزی کردار اداکرنے والے دلجیت دوسانجھ کا کہنا ہے کہ لوگوں نے فلم ڈاو¿ن لوڈ کرلی، اب اسے دبایا نہیں جاسکتا، پہلے بھی ہماری آواز دبانے کی کوشش کی گئی، لیکن اب ایسا ممکن نہیں۔
بھارتی پنجاب میں 80 اور 90 کی دہائی میں ماورائے عدالت ہلاکتوں پر آواز اٹھانے والے جسونت سنگھ کھالڑا کو بھی اغوا کیا گیا تھا اور مبینہ طور پر انہیں پولیس نے قتل کرکے لاش نہر میں پھینک دی تھی۔







