محبوبہ مفتی کی 1931کے شہدا کی قربانیوں کو فرقہ وارانہ رنگ دینے پر بی جے پی پرکڑی تنقید

سرینگر:غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے 1931میں ڈوگرہ حکومت کے خلاف احتجاج کے دوران شہید ہونے والے 22کشمیریوں کو خراجِ عقیدت پیش کیاہے اور ان کی قربانیوں کو فرقہ وارانہ رنگ دینے پر ہندوتوابھارتیہ جنتا پارٹی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایاہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق محبوبہ مفتی نے سرینگر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 22کشمیریوں نے "آمرانہ ڈوگرہ حکومت” کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے سرینگر سینٹرل جیل کے باہر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔انہوں نے کشمیری عوام اور سیاسی رہنمائوں کو شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے مزار شہدا نقشبند صاحب سرینگر جانے سے روکنے کیلئے سخت پابندیاں عائد کر نے پر قابض حکام پر کڑی تنقید کی ۔ محبوبہ مفتی نے کہاکہ انہیں اتوار کے روز گھر میں نظر بند کر دیا گیا جبکہ پیر کے روز پورے علاقے کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیاتھا۔بھگت سنگھ، سکھ دیو، راج گرو اور اشفاق اللہ خان کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشمیری تمام آزادی پسندوں کا احترام کرتے ہیں، لیکن بی جے پی نے 1931کے شہدا کے معاملے کو "ہندو-مسلم” اور "ڈوگرہ-کشمیری” تنازع کا رنگ دے دیا ہے۔انہوں نے کہاکہ بی جے پی جموں و کشمیر کے عوام کے ذہنوں پر پابندیاں عائد نہیں کر سکتی۔ یہ شہدا ہمارے ہیرو ہیں۔ 1931میں عوامی حکمرانی کے لیے اپنی جان قربان کرنے والے ہمارے شہدا ہیں ۔پی ڈی پی رہنما التجا مفتی نے بھی بی جے پی پر جموں و کشمیر کی تاریخ کو مسخ کرنے تنقید کی ۔ انہوں نے کہاکہ یومِ شہدا نہ غیر قانونی ہے اور نہ ہی بغاوت پر مبنی۔ انہی شہدا کی قربانیوں کی بدولت جموں و کشمیر میں جمہوریت آئی۔





