سرینگر :فائرنگ یکطرفہ تھی، محبوبہ مفتی نے بھارتی پولیس کے دعوے کو مسترد کر دیا

سرینگر 25 نومبر (کے ایم ایس)
بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے سرینگر کے علاقے رام باغ میں ہونے والی نام نہاد جھڑپ کی جوازیت پر سوال اٹھایا ہے جس میں بھارتی فوجیوں نے تین کشمیری نوجوانوں کو بہیمانہ طریقے سے شہید کیا۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق محبوبہ نے اپنے ایک ٹویٹ میں لکھا” رام باغ میں ہونے والے مبینہ جھڑپ کے بعد اس کی صداقت پر شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں،عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ یک طرفہ تھی، سرکاری موقف ایک بار پھر سچائی سے دور اور زمینی حقائق کے برخلاف ہے جیسا کہ شوپیاں، ایچ ایم ٹی اور حیدر پورہ جعلی مقابلوں کے حوالے سے دیکھا گیا ہے۔رام باغ جھڑپ کے عینی شاہدین نے کہا ہے کہ نوجوانوں کو بہیمانہ طریقے سے قتل کیا گیا اور اگر وہ عسکریت پسند ہوتے تو ان کے پاس ہتھیار ہوتے اور وہ جوابی کارروائی کرتے۔ عینی شاہدین نے کہا کہ اگر پولیس کو ان پر کوئی شبہ تھا تو وہ انہیں گرفتار کر سکتی تھی۔ انہوںنے کہا کہ بھارتی پولیس نے تین نوجوانوں پر اندھا دھند فائرنگ کر کے انہیں مار ڈالا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: