بھارت

بھارت عالمی سلامتی کا داعی، مگر اندرونِ ملک اقلیتیں مسلسل عدم تحفظ کا شکار، رپورٹ

نئی دلی:بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی ایک جانب عالمی سطح پر بھارت کو امن و سلامتی کے علمبردار کے طور پر پیش کر رہے ہیں جبکہ دوسری جانب بھارت میں مذہبی اقلیتوں خصوصا مسلمان عدم تحفظ کا شکار ہیں ۔
کشمیر میڈیا سروس کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت کے تقریبا 20کروڑ مسلمان، جو ملک کی آبادی کا تقریبا 15فیصد ہیں اور تقریبا 3کروڑ مسیحیوں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کے دور میں ان کی مذہبی اور سماجی شناخت بے رحمی سے سکڑتی جا رہی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آبادی میں 15فیصد حصہ رکھنے کے باوجود مسلمانوں کی لوک سبھا میں نمائندگی صرف 4.4فیصد ہے، جسے اقلیتوں کو منظم انداز میں سیاسی عمل سے باہر دھکیلنے کا واضح ثبوت قرار دیا گیا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق 2025کے دوران مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کے ایک ہزار318واقعات رپورٹ ہوئے جو گزشتہ برس کے مقابلے میں 13فیصد زیادہ ہیں جبکہ ان میں سے 98فیصد واقعات میں مسلمانوں کو نشانہ بنایاگیا۔ رپورٹ میں مجوزہ یکساں سول کوڈ کو بھی "ثقافتی جبر”قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس کا مقصد اکثریتی ہندو اقدار کومسلمانوں پرمسلط کرنا اور اقلیتوں کے ذاتی قوانین کو ختم کرنا ہے۔رپورٹ کے مطابق صرف شورش زدہ ریاست منی پور میں 200سے زائد مسیحیوں کو ہلاک اور 250سے زائدگرجا گھروں کو نذرِ آتش کیاگیاہے جبکہ حالیہ برسوں کے دوران ملک بھر میں مسیحی برادری پر 700سے زائد حملے بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نیوزی لینڈ، آسٹریلیا، ناروے، انڈونیشیا اور فرانس میں جی۔7اجلاسوں کے دوران عالمی استحکام پر لیکچر دیتے ہیں، لیکن ان کے ہر غیر ملکی دورے پر بھارت میں اقلیتوں کی بڑھتی ہوئی محرومی اور عدم تحفظ کا سایہ نمایاں رہتا ہے۔رپورٹ کے مطابق یہ قیادت نہیں بلکہ کھلی منافقت ہے۔ بھارت کو عالمی سلامتی پر درس دینے سے پہلے اپنی مذہبی اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے۔ دنیا اس دکھاوے کی حقیقت کو بخوبی دیکھ رہی ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button