بھارت

واشنگٹن تھنک ٹینک کی رپورٹ، بھارت میں نفرت انگیز موسیقی کی صنعت بے نقاب

رپورٹ میں یوٹیوب، میٹا، اسپاٹیفائی اور ایپل میوزک پر 523 نفرت انگیز گانوں کی نشاندہی

واشنگٹن: واشنگٹن ڈی سی میں غیر جانبدار تحقیقی ادارے ”سنٹر فار دی اسٹڈی آف آرگنائزڈ ہیٹ ”کی ایک رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ بھارت میں مودی کے دورحکومت میں ہندو قوم پرستانہ نظریات کو فروغ دینے کیلئے ہندو قوم پرست یاہندوتوا پاپ میوزک کے نام سے معروف موسیقی ایک نئے رجحان کے طور پر سامنے آئی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق رپورٹ میں انکشاف کیاگیاہے کہ بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر اور بیانیے میں نمایاں طورپراضافہ ہوا ہے۔ مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز مواد پر مشتمل سینکڑوں گانے بڑی عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے پلیٹ فارمز پر موجود ہیں اور ان سے مالی منافع بھی حاصل کیا جا رہا ہے۔ ”نفرت انگیز موسیقی سے فائدہ اٹھانا: بھارت کی نفرت انگیز موسیقی کی صنعت کی میزبانی میں یوٹیوب، میٹا، اسپاٹیفائی اور ایپل میوزک کا کردار”کے عنوان سے رپورٹ میں مجموعی طور پر 523ایسے گانوں کی نشاندہی کی گئی ہے ،جو یوٹیوب، اسپاٹیفائی، ایپل میوزک اور میٹا کی میوزک لائبریری میں دستیاب ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان گانوں میں مذہبی اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں اور مسیحی برداری کے خلاف نفرت، غیر انسانی رویوں اور تشدد پر اکسانے والا مواد موجود ہے، جو متعلقہ پلیٹ فارمز کی پالیسیوں کی خلاف ورزی ہے۔رپورٹ کے مطابق یوٹیوب اس نوعیت کی موسیقی کی میزبانی کرنے والا سب سے بڑا پلیٹ فارم ہے، جہاں 98گلوکاروں کے 210 نفرت انگیز گانوں کی نشاندہی کی گئی۔ ان میں سے 104گانے مبینہ طور پر مسلمانوں کے خلاف براہ راست تشدد پر اکسانے یا دھمکیوں پر مشتمل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان گانوں کو مجموعی طور پر کم از کم 97 ملین مرتبہ دیکھا جا چکا ہے۔اسی طرح رپورٹ میں اسپاٹیفائی پر 53 فنکاروں کے 109، میٹا کی میوزک لائبریری میں 103 اور ایپل میوزک پر 59 فنکاروں کے 101 نفرت انگیز گانوں کی موجودگی کا دعوی کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگرچہ تمام گانوںمیں مسلمانوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت، توہین آمیز زبان، غیر انسانی القابات اور سازشی نظریات کو فروغ دیا گیا ہے، جو خوف، غصے اور سماجی تقسیم کو بڑھا سکتے ہیں۔رپورٹ میں یہ بھی دعوی کیا گیا ہے کہ متعدد گانوں میں مسلمانوں اور عیسائیوں کو بھارت سے نکالنے، ان پر حملے کرنے یا ایک خالصتا ہندو ریاست کے قیام کی حمایت جیسے پیغامات شامل ہیں، جنہیں رپورٹ نے تشدد پر اکسانے کے مترادف قرار دیا ہے۔رپورٹ کے اختتام پر یوٹیوب، میٹا، اسپاٹیفائی اور ایپل میوزک کے لیے سفارشات میں نفرت انگیز موسیقی کی تشہیر اور اس سے مالی منافع کے حاصل کرنے کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز مواد کے فروغ کو روکنے میں حکومتی اداروں اور بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی ناکامی اس مسئلے کی شدت میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔ ان کے بقول ایسے مواد کی میزبانی اور تشہیر مذہبی امتیاز، سماجی تقسیم اور عدم برداشت کے رجحانات کو مزید تقویت دے سکتی ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button