جدید دفاعی سازوسامان کی تیاری میں روس پر انحصار سے مودی حکومت کے” خود کفیل بھارت“ کے دعوے بے نقاب

نئی دہلی : اسٹریٹجک دفاعی نظام کے لیے روس پر مسلسل انحصار نے مودی حکومت کے ” خود کفیل وخود انحصار “ بھارت کے دعوﺅں کا کھوکھلا پن مکمل طورپر بے نقاب کر دیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق روس نے بھارت کو ایس -500 سے ماخوذ ٹیکنالوجی کی براہ راست فروخت سے انکار کیا ہے تاہم اسکے مجوزہ پروجیکٹ سودرشن چکر کے تحت ایس-500 فضائی دفاعی نظام پر مبنی جدید ٹیکنالوجی مشترکہ طور پر تیار کرنے کی پیشکش کی ہے۔ روس نے بھارت کو براہِ راست ایس-500 نظام فروخت کرنے کے بجائے مشترکہ تحقیق، ترقی اور پیداوار پر مبنی شراکت داری کی تجویز دی ہے۔
اس مجوزہ تعاون کے تحت بھارت کو جدید میزائل دفاعی ٹیکنالوجی، بیلسٹک اور ہائپرسونک خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت اور مقامی دفاعی صنعت کو مزید مضبوط بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس منصوبے کا مقصد بھارت کے کثیر سطحی فضائی دفاعی نظام کو مزید جدید بنانا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ پیشکش دفاعی شعبے میں بھارت اور روس کے طویل المدتی تعاون کو مزید وسعت دینے کی کوشش کا حصہ ہے، جبکہ پروجیکٹ سودرشن چکر کے ذریعے بھارت اپنی فضائی اور میزائل دفاعی صلاحیتوں میں خود انحصاری حاصل کرنے کی سمت تیزی سے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
تجزیہ کاروں نے کہا کہ” ڈی آر ڈی او“ پر کئی دہائیاں صرف اور اربوں خرچ کرنے کے بعد بھی بھارت 2035 تک اپنے طور پر ایک قابل اعتماد اعلیٰ درجے کی فضائی دفاعی ڈھال نہیں بنا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ S-400 کی ترسیل پہلے ہی تاخیر کا شکار ہے اور مقامی پروگرام جیسے پروجیکٹ کوشا اور بی ایم ڈی کے مراحل میں بھی تاخیر جاری ہے۔
مبصرین کا کہنا کہ مودی حکومت” خود کفیل اور خود انحصار“ بھارت کا مسلسل راگ الاپ رہی ہے لیکن جدید دفاعی سازوسامان کی تیاری میں دوسروں پر انحصار اس کے ان دعوﺅں کی قلعی کھول رہا ہے۔







