بھارت

بھارت کے سب سے بڑے جوہری پلانٹ کا حساس ڈیٹا چوری

ہیکرز نے منصوبے سے متعلق ہزاروں فائلوں کو آن لائن جاری کر دیا

نئی دلی:
بھارت کے سب سے بڑے جوہری بجلی گھر کوڈن کولم سے متعلق حساس معلومات مبینہ طور پر ڈارک ویب پر سامنے آنے کے بعد ملک کی سائبر سیکیورٹی پر نئے سوالات اٹھ گئے ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ایک رینسم ویئر گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے منصوبے سے متعلق ہزاروں فائلیں حاصل کر کے ان میں سے بعض کو آن لائن جاری کر دیا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق مبینہ طور پر افشا ہونے والی معلومات میں جوہری پلانٹ کی مختلف تنصیبات کے نقشے، سپلائرز کی معلومات، معائنہ رپورٹس، اجلاسوں کی تفصیلات، تکنیکی دستاویزات اور دیگر انتظامی ریکارڈ شامل ہیں۔پلانٹ کے منصوبے سے وابستہ ریلائنس گروپ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایک تھرڈ پارٹی ڈیٹا سروس فراہم کرنے والی کمپنی کے سرور پر سیکیورٹی خلاف ورزی کا واقعہ پیش آیا تھا۔ تاہم کمپنی نے یہ واضح نہیں کیا کہ کون سا ڈیٹا متاثر ہوا یا کتنی معلومات تک رسائی حاصل کی گئی۔سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایسی حساس معلومات غلط ہاتھوں میں چلی جائیں تو اہم تنصیبات کی سیکیورٹی، سپلائی چین اور آپریشنل نظام سے متعلق معلومات کے غلط استعمال کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔رپورٹس کے مطابق افشا شدہ دستاویزات کا تعلق جوہری ری ایکٹر کے بنیادی نظام سے نہیں بلکہ تعمیراتی اور معاون تنصیبات، وینٹیلیشن، کولنگ سسٹمز اور کنٹرول روم سے متعلق بعض تکنیکی معلومات سے ہے۔متعلقہ ڈیٹا سروس کمپنی نے بتایا کہ مئی میں مشکوک سرگرمی سامنے آنے پر فوری حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے، جبکہ بعد ازاں مبینہ ڈیٹا لیک کے دعووئوں کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا اور متعلقہ اداروں کے ساتھ تعاون جاری ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اہم قومی تنصیبات کی سائبر سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے، خصوصا ایسے وقت میں جب دنیا بھر میں اہم انفراسٹرکچر پر سائبر حملوں کے خطرات میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button