بھارت مقبوضہ کشمیر میں مزید فورسز اہلکار تعینات اور 4پرتوں پر مشتمل فورس گرڈ قائم کرنے کی تیاری کر رہا ہے
10 لاکھ سے زائد قابض بھارتی اہلکاروں نے علاقے کو پہلے ہی ایک بڑ ی جیل میں تبدیل کر رکھا ہے، رپورٹ

اسلام آباد: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی حکومت جنگی بنیادوں پر مزید فوجیوں کی تعیناتی عمل میں لانے اور 4 پرتوں (4-tier) پر مشتمل فورسز گرڈ قائم کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔
کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق پہلی پرت میں کنٹرول لائن اور اور ورکنگ بانڈری شامل ہیں جسے بھارتی فوج اور بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف )مل کر سنبھالتے ہیں۔دوسری پرت میں دیہی اور کنٹرول لائن اور ورکنگ بائونڈی والے علاقے ہیں ۔اس پرت میں مقامی پولیس اور نیم فوجی دستو ں جیسے سی آر پی ایف ( سی آر پی ایف ) کو تعینات کیا گیا ہے ۔تیسری پرت میں شہری اور قصباتی علاقے شامل ہیں جن میں کوئیک رسپانس ٹیموں اور اسپیشل آپریشنز گروپ ( ایس او جی )کا استعمال کیا جاتا ہے، جو فوری کارروائی کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔چوتھی پرت انٹیلی جنس گرڈ کی ہے جس میں مختلف انٹیلی جنس ایجنسیاں جیسے” آئی بی -اور را ”- RAW) شامل ہیں جو تکنیکی اور انسانی ذرائع سے معلومات اکٹھی کر کے آپریشنل فورسز کو فراہم کرتی ہیں۔یہ فورس گرڈ جدید نگرانی کے آلات، ڈرونز اور مصنوعی ذہانت ( اے آئی )پر مبنی ٹیکنالوجی سے لیس ہے ۔ بھارت نے پہلے ہی مقبوضہ جموں وکشمیر پر اپنے ناجائز اور غیر قانونی تسلط کو برقرار رکھنے کیلئے علاقے میں دس لاکھ سے زائد فورسز اہلکار تعینات کررکھے ہیں جس سے علاقہ دنیا کے سب سے بڑے فوجی تعیناتی والے خطے میں تبدیل ہو چکا ہے ۔
کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کی گئی ا یک رپورٹ میں کہا گیا کہ بی جے پی کی بھارتی حکومت حق خودارادیت کے لیے کشمیریوں کی جدوجہد کو کچلنے کے مذموم مقصد کے کنٹرول لائن اور ورکنگ بائونڈی کے بنیادی ڈھانچے کو مزید مضبوط کر رہی ہے، نئی پوسٹیں اور پکٹس تیار کی جارہی ہیں اور نگرانی موثر بنائی جارہی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی وزارت داخلہ نے مقبوضہ جموں وکشمیر اور بھارتی ریاستوں میں سرحدی انفراسٹرکچر کو مزید موثر و مضبوط بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ بی ایس ایف گرڈ کے بعد نئی پولیس پوسٹیں تعمیر ہونگی ، جنہیں نگرانی کے جدید ترین آلات اور ڈرون سسٹم کے ساتھ اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔ بھارت نے پہلے ہی سی آر پی ایف کے خصوصی کوبرا کمانڈو یونٹ پورے مقبوضہ جموں وکشمیر میں تعینات کر رکھے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بڑے پیمانے پر فورسز کی تعیناتی نے مقبوضہ علاقے کو ایک بڑی کھلی جیل میں تبدیل کر دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت ظلم وجبر اور فورسز اہلکاروں کی زیادہ سے زیادہ تعیناتی کے ذریعے علاقے پر اپنے جبر ی قبضے کو برقرار رکھنے اورکشمیریوں کے جذبہ حریت کو دبانے کی کوشش کر رہاہے لیکن وہ پھر بھی اپنے اپنے مذموم ارادوں میں کامیاب نہیں ہوسکے گاکیونکہ کشمیریوں نے اپنے بے مثال عزم وہمت کے ذریعے اسکے مذموم ارادوں کو ناکام بنا رکھا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ بے لگام بھارتی فورسز نے گزشتہ 38 سالوں میں 96ہزار سے زائدکشمیریوں کو شہید کیا ہے۔ بھارتی فوج اور ہندوتوا قوتوں نے نومبر 1947 میںجموں خطے میں تقریبا 3لاکھ مسلمانوں کی نسل کشی کی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ بی جے پی حکومت اب نئی مردم شماری کے ذریعے اور غیر مقامی لوگوں کو ہزاروں ڈومیسائل سرٹیفکیٹ جاری کر کے علاقے کی آبادی کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے ، ایسے میں عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ نہتے کشمیریوں پر جاری بھارتی مظالم ، غیر قانونی کارروائی اور اسکی ریشہ دوانیوں کا نوٹس لیکر اسے جواب دہ ٹھہرائے اور کشمیریوں کو انکا پیدائشی حق ، حق خود ارادیت دلانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔






