بھارت

اتر پردیش:گائے سمگلنگ میں ملوث چار ہندو گرفتار ،16مویشی برآمد

''دیکھتے ہیںکیا اب انکے گھر بھی گرائے جائیں گے'' سوشل میڈیا پر صارفین کا تبصرہ

وارانسی: اتر پردیش کے ضلع وارانسی میں پولیس نے گائے سمگلنگ میں ملوث چار ہندو افراد گرفتار کر لیے اور انکے قبضے سے 16مویشی بھی برآمد کر لیے ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق گرفتار افراد کی شناخت شویندر سنگھ ، تیواری، چھوٹو سنگھ اور آشو کھرور کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس نے کہا کہ پیر تیرہ جولائی کو لنکا تھانے کی حدود میں واقع دافی ٹول پلازہ کے قریب ایک چھوٹے ٹرک کو روک کر تلاشی لی گئی جس دوران اس میں 16گائے اور بیل برآمد ہوئے جنہیں ضبط کیا گیا۔جبکہ چاروں ملزم دھر لیے گئے۔
اس واقعے کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ بھارت میں ہندو توا غنڈے گائے کے نام نہاد تحفظ کے نام پر مسلمانوں کو بڑے پیمانے پر نشانہ بنا رہے ہیں اور انہیں پیٹ پیٹ کر قتل کر دیتے ہیں ۔ خواہ مسلمان قانونی طور پر ہی مویشی کیوں نہ لے جا رہے ہوں ، انہیں ہراسان کرنا، تشدد کا نشانہ بنانا اور بعض اوقات انہیں پیٹ پیٹ کو قتل کر ڈالنا روز کا معمول ہے ۔
ضلع وارانسی میں پیش آنے والے اس واقعے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر بھی شدید ردعمل سامنے آیا ہے ۔ ایک صارف نے لکھا” اتر پردیش میں گائے اسمگلنگ کے الزام میںگرفتار چار ہندو افراد کیا ملا ہیں؟۔ ایک اور صارف نے لکھا ” اب ہندوئوں کے جذبات مجروح نہیں ہونگے اور نہ ہی کسی کی تذلیل یا لنچنگ ہو گی کیونکہ اس بار ملزم مسلمان نہیں بلکہ ہندو ہیں۔”ایک اور صارف نے یہ تبصرہ کیا”دیکھتے ہیںکیا اب انکے گھر بھی گرائے جائیں گے یا پھر اس طرح کی ظالمانہ کارروائی صرف مسلمانوں کے لیے ہی مخصوص ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button