بھارت کشمیری مسلمانوں کومذہبی فرائض کی ادائیگی سے دور، مالی طور پر غیر مستحکم کرنے کی منظم پالیسی پرعمل پیرا
مفتی اعظم کا حج درخواستوں کی تعداد میں مسلسل کمی پر اظہار تشویش

سرینگر: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جمو وکشمیر کے مفتی اعظم مفتی ناصر الاسلام نے حج درخواستوں کی تعداد میں گزشتہ چند برسوں سے مسلسل کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کل بروز جمعہ پورے مقبوضہ علاقے میں "یومِ ترغیبِ حج” ،جبکہ آئندہ پورا ہفتہ "ہفت آگاہی حج” کے طور پر منانے کا اعلان کیا ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مفتی ناصر الاسلام نے اپنے ایک خصوصی پیغام میں کہا کہ اللہ تعالی نے ہر اس مسلمان پر، جو مالی، جسمانی اور سفری اعتبار سے صاحبِ استطاعت ہو، زندگی میں ایک مرتبہ حج بیت اللہ فرض فرمایا ہے۔ انہوںنے کہا کہ یہ کوئی اختیاری عبادت نہیں بلکہ اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک عظیم فریضہ ہے۔مجھے انتہائی افسوس اور تشویش کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ گزشتہ چند برسوں سے جموں و کشمیر سے حج درخواستوں کی تعداد مسلسل کم ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ لوگ مختلف وجوہات کی بنا پر حج کی درخواستیں جمع نہیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک پرائیویٹ حج کمپنیوں کو حج کوٹہ جاری نہیں کیا گیا ہے اور ماضی میں بھی ان کا کوٹہ محدود رہا ہے۔ مفتی اعظم نے کہا کہ صرف عمرہ ادا کرنے سے فرض حج ساقط نہیں ہوتا۔ عمرہ ایک عظیم عبادت ہے، تاہم صاحبِ استطاعت مسلمان پر حج کی ادائیگی فرض ہے۔ انہوں نے کہاکہ میں جموں و کشمیر کے تمام علماِ کرام، خطباِ،، ائمہ مساجد، مبلغین، واعظین، تمام مکاتبِ فکر کے ذمہ داران، مدارسِ ذمہ داران، مذہبی تنظیموں، سماجی اداروں اور ذرائع ابلاغ سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس عظیم فریضے کی اہمیت کو عوام تک پہنچانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔انہوں نے آئمہ کرام پر زور دیا کہ وہ جمعہ کے خطبات میں حج کی فرضیت، فضیلت اور اہمیت پر خصوصی روشنی ڈالیں، جبکہ مدارس، دینی ادارے، مذہبی تنظیمیں اور مسلم این جی اوز ہر ضلع میں حج آگاہی پروگرام، اجتماعات اور کیمپ منعقد کریں۔مفتی ناصر الاسلام نے مزید کہا کہ مستقبل قریب میںان شا اللہ ” جموں و کشمیر مسلم پرسنل لا بورڈ” کے زیرِ اہتمام تمام مکاتبِ فکر کے جید علماِ کرام کا ایک عظیم الشان اجلاس بھی منعقد کیا جائے گا، جس میں حج سے متعلق درپیش مسائل، حج درخواستوں میں کمی کی وجوہات اور آئندہ کے لیے لائحہ عمل پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ بی جے پی کی ہندو توا بھارتی حکومت نے مقبوضہ علاقے کے مسلمانوں کے دیگر حقوق کیساتھ ساتھ دینی حقوق بھی سلب کررکھے ہیں۔ وہ کشمیری مسلمانوں کو اپنے مذہبی فرائض کی ادائیگی سے دور کرنیکی ایک منظم پالیسی پرعمل پیرا ہے ۔ گزشتہ برس مقبوضہ علاقے سے تین ہزار سے بھی کم لوگوںنے حج بیت اللہ کا اہم دینی فریضہ ادا کیا ۔ رواں برس بھی اسی طرح کی صورتحال دکھائی دے رہی ہے جس پر علاقے کے مفتی اعظم نے بھی اپنی تشویش ظاہر کی ہے۔بھارتی حکومت نے اگست 2019میں مقبوضہ علاقے کی خصوصی حیثیت سلب کرنے کے بعد علاقے کے مسلمانوں کو دیوار کیساتھ لگانے کی اپنی مذموم پالیسی میں تیزی لائی ۔ وہ کشمیری مسلمانوں کو مالی طور پر غیر مستحکم کرنے کیلئے ان کے گھر، زمینیں ، کاروباری مراکز اور جائیدار ضبط اور مسمار کر رہی ہے ۔ سیب کی صنعت کشمیر کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتی ہے لیکن بھارت اسے بھی تباہ و برباد کرنے پر تلاہوا ہے ۔ وہ کشمیری سیب اور دیگر پھل اونے پونے داموں دلی وغیرہ کی منڈیوں میں پہنچا رہا ہے ۔ مقبوضہ علاقے میں سیب کے درختوں کو رات کی تاریکی میں کاٹ ڈالنے کے پراسرار واقعات راز کا معمول بن چکا ہے۔ بعض اوقات ایک ہی رات میں سیب کے سینکڑوں درخت کاٹ دیے گئے ہوتے ہیں اور کشمیری عوام بار ہا اس ظالمانہ کارروائی میںبھارتی فوجیوں کا ہاتھ ہونے کا کا خدثہ ظاہر کر چکے ہیں ۔ سیب کے درختوںکی کٹائی بھی مقصدبھی کشمیری پھل فرشوںکو اس اہم ذریعہ معاش سے محروم کر کے انہیں مفلوک الحالی کی طرف دھکیلناہے۔ جج درخواستوں کی تعداد میں کمی کی بنیادی وجہ بھی کشمیریوںکی مالی خستہ حالی ہی ہے۔






