ممتاز صحافی رانا ایوب کی بھارت میں یونیورسٹیوں اور طلباءکے خلاف کارروائیوں کی مذمت
نئی دہلی: ممتاز بھارتی صحافی رانا ایوب نے بھارت میں یونیورسٹیوں اور طلباءتحریکوں کے خلاف بڑھتی ہوئی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن اداروں نے تاریخی طور پر پسماندہ کمیونٹیز کی خدمت کی ہے انہیں منظم طریقے سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق رانا ایوب نے ایکس پر ایک پوسٹ میں ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی طرف سے جاری بھوک ہڑتال اور احتجاج کرنے والے طلباءکے خلاف کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ اس سے اختلاف رائے کو دبانے کے لیے ریاستی طاقت کے بڑھتے ہوئے استعمال کی عکاسی ہوتی ہے۔ انہوں نے محمد علی جوہر یونیورسٹی کے مجوزہ انہدام کا بھی حوالہ دیا اورکہا کہ یہ اسی رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔راناایوب نے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز جیسے اداروں میں پیش آنے والے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ الگ تھلگ کیسز نہیں ہیں بلکہ اسی رحجان کا حصہ ہیں جس سے بھارت میں اعلیٰ تعلیم متاثرہورہی ہے۔اس کے بیان س پرلوگوںنے بھارت میں تعلیمی آزادی اور طلباءکے حقوق پر تشویش کا اظہار کیا ہے جبکہ بھارت میں یونیورسٹی کی پالیسیوں، طلباءکے احتجاج اور اعلیٰ تعلیم کے مستقبل پر ایک نئی بحث چھڑگئی ہے۔




/newsdrum-in/media/media_files/9qB0JVBh18P0zf97sXP1.jpg)

