طلبا کے مستقبل کو خطرے میں نہ ڈالیں
جمعیت علما ہند کی محمد علی جوہر یونیورسٹی کے انہدام کی مخالفت

لکھنو:جمعیت علما ہند نے محمد علی جوہر یونیورسٹی رامپور کی 38عمارتوں کو منہدم کرنے کے اتر پردیش حکومت کے حکم کی شدید مذمت کی ہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق جمعیت علما ہند کے سربراہ مولانا محمود مدنی نے کہا کہ یوپی حکومت کا یہ اقدام قانون کی حکمرانی، انصاف اور ریاست کی آئینی ذمہ داریوں پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ کارروائی سے ہزاروں طلبا کا تعلیمی مستقبل خطرے میں پڑ جائے گا اور ایک بڑا قومی تعلیمی اثاثہ ضائع ہو گا۔انہوں نے کہاکہ اگر کسی تعمیرات میں قانون شکنی ثابت بھی ہو جائے تو بھی انہدام ہمیشہ واحد یا ناگزیر راستہ نہیں ہوتا
حکام اس کے بجائے ریگولرائزیشن، نظر ثانی شدہ منظوریوں، کمپانڈنگ یا جرمانے کا انتخاب کرسکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک بھر میں بی جے پی کی زیرقیادت حکومتوں نے ایسے معاملات کو انہدامی کارروائیوں کے ذریعے ہی حل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی ادارے کے معاملے میں، انصاف اور مفاد عامہ کا تقاضا ہے کہ انہدام پر غور کرنے سے پہلے تمام قانونی متبادلات کا جائزہ لیا جائے۔کانپور، وارانسی، جھانسی اور الہ آباد کی عدالتی نظیروں کا حوالہ دیتے ہوئے ارشدمدنی نے کہا کہ عدالتوں نے فوری طور پرعمارتیں مسمار کرنے کے بجائے ریگولرائزیشن اور اصلاحی اقدامات کی حمایت کی ہے۔







