مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش ہے ، ایمنسٹی انٹرنیشنل

نئی دلی: بھارت میں مودی حکومت کی طرف سے سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانے کا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی بین االاقوامی تنظیموں نے مودی حکومت سے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق بھارت کے نئے غیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔ انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب کیلئے کام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں اس قانون کی زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کے انہیں کام سے روک چکی ۔اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔







