مقبوضہ جموں و کشمیر

”سی ای سی” سنگھ پریوار کیلئے کام کر رہے ہیں، ”ایس آئی آر” میں مسلمانوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا، فاروق عبداللہ

لوگوں میں جرات اور حوصلہ پیدا ہو رہا ، تبدیلی ضرور آئے گی، سربراہ نیشنل کانفرنس

سری نگر: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں نیشنل کانفرنس کے سربراہ فاروق عبداللہ نے بھارتی الیکشن کمیشن کیطرف سے ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظر ثانی (ایس آئی آر )مہم کے دوران بڑی تعداد میں رائے دھندگان کے نام حذف کیے جانے پر سخت تنقیدکرتے ہوئے کہاکہ لوگوںنے اب جرات اور حوصلہ دکھانا شروع کر دیاہے جو اس بات کی علامت ہے کہ ”تبدیلی ”آنے والی ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق فاروق عبداللہ نے سرینگر میں منعقدہ پارٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی چیف الیکشن کمشنر کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ کسی کو بھی یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی شہری کا نام ووٹر فہرست سے خارج کرے۔انہوں نے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ کس طرح لوگوں کے نام فہرستوں سے ہٹائے گئے اور پھر وہ بڑی آسانی سے کہا گیا ،اچھا، ہم اگلے انتخابات میں اس پر غور کریں گے۔جب بھارت کا آئین آپ کو ایک شہری کی حیثیت سے ووٹ دینے کا حق دیتا ہے تو کسی کو بھی فہرست سے کسی کا نام ہٹانے کا حق نہیں ہے۔
فاروق عبداللہ نے کہا مسلمانوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا اور ان کے نام خارج کیے۔ کپل سبل جیسے ممتاز وکیل کا نام بھی فہرست سے ہٹا دیا گیا۔ کتنے ہی لوگوں کے نام خارج کیے گئے۔ کیونکہ ان کا مقصدہمیشہ اقتدار میں رہنا ہے اور ایسا کرنے کے لیے ہمیں ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو ہمارے اشاروں پر چلیں۔
فاروق عبداللہ نے کہا کہ تاہم تبدیلی کی ہوائیں چلنے لگی ہیں ، لوگوں میں حوصلہ پیدا ہو رہا ہے۔ تبدیلی ضرور آئے گی۔ میں آپ کو بتا رہا ہوں وہ ہوا چل پڑی ہے جس سے عوام کا اختیار دوبارہ ابھر کر سامنے آئے گا۔
انہوں نے کہا کہ نریندر مودی کی حکومت نے چیف الیکشن کمشنر ( سی ای سی )کے انتخاب کے لیے دو ارکان حکومت کی طرف سے اور ایک رکن اپوزیشن کی طرف سے شامل کیا۔ مجھے بتائیں جب دو کی اکثریت ایک طرف ہو تو اپوزیشن کا وہ واحد نمائندہ کیا کر سکتا ہے؟ کیونکہ فیصلہ اکثریت سے ہوتا ہے۔ اسی اکثریت کا استعمال کرتے ہوئے مودی نے اپنے ہی محکمے کے ایک سیکرٹری کو الیکشن کمیشن کا سربراہ مقرر کیا جو مکمل طور پر جانبدار ہیں اور سنگھ پریوار کے لیے کام کرتے ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button