مقبوضہ جموں وکشمیر: سرینگر میں پانی کی شدید قلت کے خلاف خواتین کا دھرنا، سڑک بند
سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں سرینگر کے علاقوں بسنت باغ،حبہ کدل اور کرال کھڈ کی خواتین نے ہفتے کے روز پانی کی شدید قلت کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کیا اور کرال کھڈ میں سڑک بلاک کرکے ٹریفک کی آمدورفت روک دی۔
مظاہرین نے بتایا کہ پانی کی فراہمی میں طویل عرصے سے جاری تعطل کے باعث گھریلو امور شدید متاثر ہوئے ہیں اور خواتین کو بحران کی جانب توجہ مبذول کرانے کے لیے سڑکوں پر آنا پڑا۔سڑک کی بندش کے باعث علاقے میں ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی، جبکہ مظاہرین نے محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ سے فوری مداخلت اور پینے کے پانی کی مناسب فراہمی بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔
یہ احتجاج سرینگر کے مختلف علاقوں میں پانی کی شدید قلت کے دوران کیا گیا ہے۔ قابض انتظامیہ نے حال ہی میں بسنت باغ، گنپتیار اور ملحقہ علاقوں میں پانی کی فراہمی میں وقفے وقفے سے آنے والی رکاوٹوں کا اعتراف کیا تھا اور اس کی وجہ رنگیل واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ میں پانی کی دستیابی میں اتار چڑھاو¿ اور پانی کی صفائی کے عمل میں درپیش مشکلات کو قرار دیا تھا۔ انتظامیہ نے کہا تھا کہ متاثرہ علاقے تقسیمِ آب کے نظام کے آخری سرے پر واقع ہیں۔
مظاہرین نے حکام پر زور دیا کہ پانی کی قلت کے مسئلے کے حل کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور متاثرہ علاقوں میں پینے کے پانی کی باقاعدہ فراہمی یقینی بنائی جائے۔








