جنیوا رپورٹ نے بھارت میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو بے نقاب کر دیا
جنیوا : بھارت میں مسلمانوں کے خلاف منظم امتیازی سلوک، تشدد، من مانی گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی دیگر خلاف ورزیوں سے متعلق ایک نئی رپورٹ جنیوا میں پیش کر دی گئی ہے جس سے بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر ایک بار پھر سنگین خدشات سامنے آئے ہیں۔
”غیر مساوی شہری: 2014 تا 2025بھارت میں مسلمانوں کے خلاف منظم امتیازی سلوک اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں،“ کے عنوان سے یہ رپورٹ اریٹے اکیڈمی جنیوا نے مارچ 2026 میں شائع کی تھی۔ رپورٹ کی باقاعدہ رونمائی 30 ستمبر کو جنیوا سینٹر فار سیکیورٹی پالیسی (GCSP) میں ہوئی۔تقریب کی نظامت فرانس کی ڑاں مولین لیون III یونیورسٹی سے وابستہ ایمن بلحوسین نے کی۔ تقریب میں محققین، قانونی ماہرین، اساتذہ، ماہرینِ تعلیم اور نوجوانوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں نے شرکت کی۔
پینل میں یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ رکھنے والی بین الاقوامی ماہر اور اخلاقی قیادت کی ماہر سیبل روپریخت، وکیل اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی کارکن زرینہ عبدالعزیز، ڑاں مولین لیون III یونیورسٹی کے سلیمان نگوسی اور اقلیتی حقوق و نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے کام کرنے والی کارکن امل مزمل شامل تھیں۔زرینہ عبدالعزیز نے امتیازی سلوک، مساوات، قانونی تقاضوں، مذہبی آزادی اور من مانی گرفتاریوں سمیت انسانی حقوق کے قانونی پہلوو¿ں پر روشنی ڈالی، جبکہ سلیمان نگوسی نے معاملے کا علمی اور تحقیقی جائزہ پیش کیا۔
رپورٹ میں 2014 سے 2025 تک 11 برس کے دوران بھارت میں پیدا ہوانے والی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔ اس میں قانونی تجزیوں، دستاویزی واقعات، اعداد و شمار اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں کے مواد کو یکجا کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں قانون سازی، پولیس کارروائیوں، گرفتاریوں، جائیدادوں کی مسماری، فرقہ وارانہ تشدد، مذہبی آزادی، نفرت انگیز تقاریر اور مسلمانوں کو سماجی طور پر الگ تھلگ کرنے جیسے معاملات کا احاطہ کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق تحقیق کے لیے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے اداروں، اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر (OHCHR)، ہیومن رائٹس واچ، ایمنسٹی انٹرنیشنل، امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی، عدالتی ریکارڈز اور میڈیا رپورٹس سمیت عوامی طور پر دستیاب ذرائع سے مدد لی گئی ہے۔رپورٹ میں جنوری سے اگست 2025 کے دوران ہونے والے 132 پولیس مقابلوں میں ہلاکتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پولیس اور عدالتی حراست میں ہونے والی اموات کے اعداد و شمار بھی شامل کیے گئے ہیں، جنہیں بھارت کے قومی انسانی حقوق کمیشن (NHRC)، ہیومن رائٹس واچ اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کے دفتر سے منسوب کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں دسمبر 2019 میں اتر پردیش میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ہونے والے احتجاج کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ اس میں ہلاکتوں، گرفتاریوں، ایف آئی آرز اور مسلم آبادیوں سے متعلق جائیدادوں کی مسماری کے اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں۔رپورٹ میں جن مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے، ان میں سے کئی پر اقوام متحدہ کے مختلف ادارے بھی الگ سے تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔ 25 فروری 2026 کو اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں ایلس جل ایڈورڈز اور مورس ٹیڈبال بنز نے بھارتی قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر ماورائے عدالت قتل، تشدد کے نتیجے میں اموات اور زخمی کیے جانے کے الزامات کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ ان الزامات کا تعلق بالخصوص اتر پردیش اور آسام سے تھا، جہاں مسلمان، دلت اور آدیواسی برادریاں متاثر ہوئی ہیں۔اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں نے کہا تھا کہ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ زندگی کے حق، تشدد سے آزادی اور عدم امتیاز کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے مترادف ہیں۔
رپورٹ کے منتظمین کے مطابق یہ دستاویز عالمی سطح پر پالیسی سازوں اور انسانی حقوق کے اداروں، بالخصوص اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل، بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں، تعلیمی اداروں اور قانونی اداروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔رپورٹ کا مقصد یہ جائزہ لینا ہے کہ کیابھارت میں مختلف ادوار اور سرکاری و ریاستی اداروں میں سامنے آنے والے واقعات اور طریقہ کار قانون کے سامنے مساوات، منصفانہ قانونی عمل اور اقلیتی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے سنگین سوالات کو جنم دیتے ہیں؟









