بھارت

بی جے پی پنجاب میں آئندہ انتخابات سے قبل منصوبہ بند بدامنی پھیلارہی ہے: مبصرین

امرتسر :بھارت میں ہندوتوا بی جے پی حکومت 2027 کے پنجاب اسمبلی انتخابات سے قبل ریاست میں عدم تحفظ اور خوف کی فضا پیدا کرکے اختلافِ رائے کو دبانے اورحکومتی کنٹرول کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مبصرین کا کہنا ہے کہ 5اور 6مئی 2026 کو جالندھر میں بی ایس ایف ہیڈکوارٹر کے قریب اور امرتسر کے علاقے خاصہ میں فوجی چھائونی کی بیرونی دیوار کے قریب دھماکوں کو بھارتی حکومت نے سکیورٹی کے جواز کے طور پر استعمال کرتے ہوئے ریاست بھر میں ہزاروں اہلکار تعینات کر دیے ہیں۔ بی ایس ایف، آئی ٹی بی پی اور ریپڈ ایکشن فورس سمیت بڑی تعداد میں بھارتی فورسز کے اہلکاروں کی تعیناتی سے سرحدی علاقوں کو عملی طور پر عسکری حصار میں تبدیل کر دیا گیا، جبکہ حساس مواقع پر پنجاب پولیس کے چار ہزار سے زائد اہلکاروں اور متعدد پیراملٹری فورسز کی اضافی نفری کی تعیناتی بھی معمول بن چکی ہے۔مبصرین نے کہا کہ سینکڑوں سکھ نوجوانوں، کارکنوں اور سیاسی مخالفین کو کالیقوانین، خصوصا غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے)کے تحت گرفتار کیا جا رہا ہے اور انہیں خالصتانی یا دہشت گردوں کے ہمدرد قرار دے کر انصاف، شہری حقوق اور خودمختاری کے مطالبات کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔پولیس نوجوانوں اور حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنے والوں کوچھاپوں، یو اے پی اے کے تحت مقدمات اور مبینہ جعلی مقابلوں کا نشانہ بنا رہی ہے ، جس سے ریاست میں خوف اور بے یقینی کی فضا بڑھ گئی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق بی جے پی حکومت عوامی بے چینی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہوئے عام آدمی پارٹی کی ریاستی حکومت کو نشانہ بنا رہی ہے۔مبصرین نے مزید کہا کہ دھماکوں، بڑے پیمانے پر نگرانی، سخت سکیورٹی اقدامات اور فورسز کی غیر معمولی تعیناتی کو انسدادِ دہشت گردی کے بجائے سیاسی مقاصد کے حصول اور مخالف آوازوں کو دبانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button