زبردستی کا انضمام اور دفاعی بحران: بھارتی عسکری حکمتِ عملی کی ساختی ناکامی
ارشد میر
بھارت گزشتہ ایک دہائی سے خود کو ایک ابھرتی ہوئی عسکری طاقت اور خطے کی غالب فوجی قوت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے "نئے بھارت” کے تصور کے تحت دفاعی شعبے میں بڑے پیمانے پر اصلاحات، مقامی دفاعی صنعت (Indigenisation)، مشترکہ عسکری کمانڈز (Integrated Theatre Commands) اور جدید اسلحہ کے حصول کو اپنی کامیابیوں کے طور پر پیش کیا۔ تاہم زمینی حقائق اس سرکاری بیانیے سے خاصے مختلف دکھائی دیتے ہیں۔ بھارتی مسلح افواج کو ایک طرف ساز و سامان کی کمی، تاخیر کا شکار جدیدکاری، محدود فضائی استعداد، بیوروکریٹک رکاوٹوں اور بین الخدماتی اختلافات کا سامنا ہے، جبکہ دوسری طرف سیاسی قیادت مسلسل ایسے جارحانہ بیانات اور مہم جوئی پر مبنی حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہے جو خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرات کو بڑھاتی ہے۔
انٹیگریٹڈ تھیٹر کمانڈز کا تصور دنیا کی کئی بڑی افواج میں کامیابی سے رائج ہے، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہے کہ متعلقہ افواج کے درمیان اعتماد، مکمل عسکری تیاری، واضح نظریاتی ہم آہنگی اور مناسب وسائل موجود ہوں۔ بھارت میں اس کے برعکس انٹر سروسز آرگنائزیشنز ایکٹ 2023 اور اس کے بعد 2024 اور 2025 میں نافذ کیے گئے قواعد کے ذریعے اس عمل کو تیزی سے نافذ کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس پورے عمل میں پیشہ ورانہ عسکری اتفاقِ رائے کے بجائے سیاسی ڈیڈ لائنز کو فوقیت دی گئی، جس کے باعث بھارتی فوج، بحریہ اور فضائیہ کے درمیان اختلافات مزید نمایاں ہو گئے۔
بھارتی فضائیہ اس عمل کی سب سے بڑی متاثرہ سروس بن کر سامنے آئی ہے۔ مگ-21 طیاروں کی ریٹائرمنٹ کے بعد 2025 کے اختتام تک بھارتی فضائیہ کے آپریشنل فائٹر اسکواڈرنز کی تعداد کم ہو کر صرف 29 رہ گئی، جبکہ اس کا منظور شدہ ہدف 42 اسکواڈرنز تھا۔ ماہرین کے مطابق موجودہ رفتار برقرار رہی تو بھارت 2035 تک بھی بمشکل 35 یا 36 اسکواڈرنز تک پہنچ سکے گا۔ ایسی صورت میں محدود فضائی وسائل کو مختلف تھیٹر کمانڈز میں تقسیم کرنا خود بھارتی فضائیہ کی جنگی صلاحیت کو مزید کمزور کرنے کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے۔
بھارت کی فضائی کمزوریوں کی ایک بڑی وجہ اس کے مقامی لڑاکا طیارہ منصوبے "تیجس” کی مسلسل ناکامیاں بھی ہیں۔ اس منصوبے کا آغاز 1983 میں ہوا تھا، لیکن چار دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود یہ پروگرام مکمل طور پر اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکا۔ متعدد بار ڈیڈ لائنز تبدیل ہوئیں، لاگت میں کئی گنا اضافہ ہوا اور آپریشنل تیاری مسلسل تاخیر کا شکار رہی۔ حکومت اسے "میک اِن انڈیا” کی سب سے بڑی کامیابی قرار دیتی ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ تیجس مکمل طور پر مقامی (Indigenous) طیارہ نہیں ہے۔ اس میں استعمال ہونے والا انجن امریکی کمپنی جنرل الیکٹرک کا ہے، ریڈار اور متعدد ایویونکس نظام بیرونی ممالک سے حاصل کیے گئے ہیں، جبکہ کئی اہم پرزے بھی درآمد شدہ ہیں۔ اس لیے اسے مکمل طور پر دیسی دفاعی کامیابی قرار دینا ایک مبالغہ آمیز دعویٰ تصور کیا جاتا ہے۔
تیجس منصوبے کی سست رفتار صرف صنعتی کمزوری کی علامت نہیں بلکہ بھارتی دفاعی منصوبہ بندی میں موجود انتظامی مسائل کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب چین اپنی فضائی قوت کو تیزی سے جدید بنا رہا ہے اور پاکستان بھی اپنے فضائی بیڑے کو مسلسل اپ گریڈ کر رہا ہے، بھارت ابھی تک اپنے بنیادی جنگی طیاروں کی مطلوبہ تعداد پوری کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔
بھارتی فضائیہ کی مشکلات میں اضافہ اس وقت بھی ہوا جب مختلف اوقات میں تیجس طیاروں کو حادثات کا سامنا کرنا پڑا۔ اگرچہ ہر فضائیہ میں حادثات پیش آ سکتے ہیں، لیکن جب کسی نئے پروگرام میں بار بار تکنیکی مسائل اور حادثات سامنے آئیں تو وہ اس منصوبے کی قابلِ اعتماد حیثیت پر سوالات ضرور کھڑے کرتے ہیں۔ اسی طرح جیگوار اور دیگر پرانے طیاروں کے مسلسل حادثات نے بھی بھارتی فضائیہ کی آپریشنل مشکلات کو نمایاں کیا ہے۔
بھارت کی دفاعی منصوبہ بندی کو سب سے بڑا دھچکا فروری 2019 کے پاک بھارت فضائی تصادم کے بعد لگا۔ اس بحران کے دوران پاکستان اور بھارت کے درمیان فضائی جھڑپ ہوئی، جس میں ایک بھارتی مگ-21 طیارہ گر گیا اور اس کے پائلٹ ونگ کمانڈر ابھینندن ورتھمان پاکستانی تحویل میں آئے، جنہیں بعد ازاں رہا کر دیا گیا۔ اس واقعے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی کا یہ بیان خاصا موضوعِ بحث بنا کہ اگر اس وقت بھارتی فضائیہ کے پاس رفال طیارے موجود ہوتے تو نتائج مختلف ہو سکتے تھے۔ اس بیان کو کئی دفاعی مبصرین نے اس اعتراف کے طور پر دیکھا کہ بھارتی فضائیہ کی اس وقت کی تیاری مطلوبہ معیار پر نہیں تھی۔
اسی پس منظر میں فرانس سے رفال طیاروں کی خریداری کو بھارت نے اپنی فضائی برتری کی علامت کے طور پر پیش کیا۔ تاہم جدید پلیٹ فارم کی خریداری اپنے آپ میں کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتی۔ کسی بھی فضائی قوت کی اصل طاقت تربیت، آپریشنل حکمت عملی، نیٹ ورک سینٹرک صلاحیت، انٹیلی جنس، لاجسٹکس اور مربوط کمانڈ اینڈ کنٹرول پر منحصر ہوتی ہے۔
حالیہ پاک بھارت عسکری کشیدگی کے دوران پاکستان کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ اس نے بھارتی فضائیہ کے متعدد طیارے، جن میں رفال، مگ، جیگوار اور ایس یو-30 ایم کے آئی جیسے پلیٹ فارم شامل تھے، مار گرائے۔ بھارت نے ان تمام دعوؤں کی مکمل تصدیق نہیں کی، جبکہ اس حوالے سے مختلف بین الاقوامی تجزیے اور آزاد ذرائع مختلف نتائج پیش کرتے رہے۔ تاہم یہ امر واضح ہے کہ فضائی جنگوں میں صرف جدید ترین طیارہ حاصل کر لینا فیصلہ کن برتری کی ضمانت نہیں بنتا، بلکہ اس کے ساتھ مربوط دفاعی حکمت عملی، مؤثر منصوبہ بندی اور پیشہ ورانہ عسکری قیادت بھی ناگزیر ہوتی ہے۔
بھارت کی دفاعی پالیسی کا ایک اور نمایاں تضاد یہ ہے کہ اندرونی عسکری کمزوریوں کے باوجود اس کی سیاسی قیادت مسلسل جارحانہ بیانات اور طاقت کے مظاہرے کو ترجیح دیتی رہی ہے۔ دو محاذی جنگ کے امکانات، چین کے ساتھ سرحدی کشیدگی، پاکستان کے ساتھ مستقل تناؤ، محدود فضائی اسکواڈرنز، دفاعی منصوبوں میں تاخیر اور مشترکہ کمانڈز پر اندرونی اختلافات کے باوجود نئی دہلی کی خارجہ اور دفاعی حکمت عملی اکثر طاقت کے اظہار پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
دفاعی تجزیہ نگاروں کے مطابق کسی بھی ریاست کے لیے عسکری طاقت صرف اسلحہ خریدنے سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ ادارہ جاتی استحکام، پیشہ ورانہ خودمختاری، طویل المدتی منصوبہ بندی، شفاف خریداری کے نظام اور حقیقت پسندانہ قومی سلامتی کی حکمت عملی پر منحصر ہوتی ہے۔ اگر عسکری اصلاحات سیاسی مقاصد، انتخابی تشہیر یا وقتی عوامی تاثر کی خاطر نافذ کی جائیں تو وہ مطلوبہ نتائج دینے کے بجائے ادارہ جاتی تقسیم کو جنم دے سکتی ہیں۔
انٹیگریٹڈ تھیٹر کمانڈز کا موجودہ ماڈل بھی اسی تناظر میں تنقید کی زد میں ہے۔ بھارتی فضائیہ مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ محدود فضائی اثاثوں کو مستقل علاقائی کمانڈز میں تقسیم کرنے سے اس کی لچک اور فوری ردعمل کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ حکومت اسے سیاسی عزم کی علامت کے طور پر آگے بڑھا رہی ہے۔ اس اختلاف نے واضح کر دیا ہے کہ عسکری اصلاحات کے لیے صرف قانونی اختیارات کافی نہیں ہوتے بلکہ پیشہ ورانہ اتفاقِ رائے بھی ناگزیر ہوتا ہے۔
مجموعی طور پر بھارت آج ایک ایسے دفاعی تضاد کا شکار دکھائی دیتا ہے جہاں ایک طرف جدید عسکری طاقت کا تاثر پیش کیا جاتا ہے، جبکہ دوسری طرف فضائی اسکواڈرنز کی کمی، تاخیر کا شکار دفاعی منصوبے، درآمدی ٹیکنالوجی پر انحصار، ادارہ جاتی اختلافات اور عسکری جدیدکاری کی سست رفتاری جیسے مسائل مسلسل موجود ہیں۔ اگر ان بنیادی چیلنجز کو دور کیے بغیر سیاسی بنیادوں پر جارحانہ حکمت عملی اختیار کی جاتی رہی تو اس کے اثرات نہ صرف بھارتی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیت بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے امن و استحکام پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ پائیدار سلامتی کا راستہ عسکری طاقت کے دعووں سے زیادہ حقیقت پسندانہ دفاعی منصوبہ بندی، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور ذمہ دارانہ علاقائی پالیسی سے ہو کر گزرتا ہے۔








