مضامین

عالمی عدالت انصاف میں روہنگیا مظلومین کی سنوائی

کشمیریوں کی کب ہوگی؟

تحریر: ارشد میر

بین الاقوامی عدالت انصاف جسے عرف عام میں (ICJ) کہا جاتا ہے، میں میانمار کی حکومت اور فوج کے ہاتھوں روہنگیامسلمانوں کے قتل عا م اور بے دخلی سے متعلق مقدمہ کی سماعت نے دنیا کے محکوم، مجبور، مغلوب اور مظلوم اقوام و طبقات کے اندر امید کی ایک کرن پیدا کردی ہے۔

میانمار کی فوج اور بودھ انتہاء پسندوں نے مل کر 2016 اور 2017 میں ہزاروں روہنگیا مسلمان قتل کئے اور7 لاکھ سے زائد کوبنگلادیش ہجرت کرنے پر مجبور کیا تھا۔

گیمبیا کے وزیر انصاف، ڈاؤڈا جالو، جنہوں نے یہ کیس دائر کیا ہے، نے عدالت کو بتایا کہ میانمار کی مسلم اکثریت ،روہنگیا کے خلاف اس ظلم و ستم کے لیے کسی کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا جس کی وجہ سے ظالم و قاتل میانمار فوج کو مزید شہہ مل گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ میانمار کی اس کمزور اقلیت پر انتہائی بے رحمانہ اور وحشیانہ ظلم کیا گیا جس کی قابلِ اعتبار رپورٹس موجود ہیں۔

"یہ مقدمہ اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ یہ عالمی عدالت انصاف میں گزشتہ ایک دہائی کا نسل کشی کا پہلا کیس ہے جس میں دنیا کے سامنے یہ حقیقت باقاعدہ طور پر آشکار ہوجائے گی کہ کس طرح ایک ریاست نے اقلیت کے خلاف منصوبہ بندی کے تحت تشدد، قتل و غارت، زبردستی بے دخلی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا۔تین ہفتے تک جاری رہنے والی اس عدالتی کاروائی میں مدعی اور مدعا علیہ کو سنا گیا ہے جبکہ ایک خصوصی اجلاس میں روہنگیا کے متاثرین کی بھی سماعت کی جائے گی۔

اس مقدمہ میں، چاہے براہِ راست سزا یا انفرادی ذمہ داری کا فیصلہ نہ بھی ہو تاہم یہ عالمی سطح پر ایک مثال قائم کرے گا کہ کس طرح انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر ریاست کو جوابدہ ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ روہنگیا نسل کشی کے اس مقدمہ کو عالمی ضمیر اور نظام انصاف کی رہنمائی سیدھا جنوبی ایشیاءکے سب سے المناک اور طولانی تنازعے، یعنی مسلہ کشمیر کی طرف کرنی چاہئے جو میانمار سے کم نہیں بلکہ کئی لحاظ سے اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور خطرناک ہے۔ یہ معاملہ صرف کشمیر کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے جنوبی ایشیاء کے لیے ایک انتہائی خطرناک مسئلہ ہے۔ خطے میں جنگوں، نفرتوں، مخاصمتوں، انتہاپسندانہ سیاست، ہتھیاروں کی دوڑ اور جمہوری اقدار کی خلاف ورزی کا چلن اسی مسلہ کی وجہ سے ہے۔سابق امریکی صدر بل کلنٹن سمیت دنیا کے کئی سیاستدان اور تجزیہ کار اس خطے کو ایک "ایٹمی فلیش پوائنٹ” قرار دے چکے ہیں جس سے دنیا بھر میں انسانی، معاشی اور سیاسی بحران پیدا ہونے کا خطرہ لاحق ہے۔ اس مسلہ کی وجہ سے اب قدرتی وسائل بھی ہتھیار کے طور پر استعمال ہونے لگے ہیں۔کشمیر پر اپنے جابرانہ تسلط کو قائم رکھنے کی غرض سے بھارت نے پانی کے معاملے میں بھی اپنے جارحانہ اور یکطرفہ رویے کو ظاہر کیا ہے۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل اور پانی کو اسٹریٹجک ہتھیار کے طور پر استعمال کرکےخطے کو انسانی اور زرعی بحران کے خطرات میں بھی جھونک دیا۔ اس سے نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کے اربوں انسانوں کی زندگی اور روزگار متاثر ہوتا ہےاور ماحولیاتی اور معاشی توازن بھی بگڑ جائےگا۔

یہی مسلہ کشمیر اقوام متحدہ کے دفتر میں سب سے پرانے اور سنگین مسلہ کے طور پر درج ہے۔ یہ امن و ترقی کے راستے مسدود کرنے اور بے یقینی قائم کرنے والے سنگین ترین مسائل میں سے ایک اور ایٹمی جنگ کی تباہی کے حوالہ سے خطرناک ترین مسلہ ہے۔ اسی مسلہ پر اقوام متحدہ میں سب سے زیادہ یعنی 18 قراردادیں موجود ہیں۔ بھارت نے ان قراردادوں، عالمی قوانین اور انسانی اقدار کو نظر انداز کرتے ہوئے متنازعہ جموں و کشمیر پر اپنی جبری عملداری قائم کر رکھی ہے۔ کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت مانگنے کی پاداش میں دہائیوں سے نسل کشی، اجتماعی سزا، قتل و غارت، تشدد، تذلیل اور آبادیاتی تبدیلی کا سامنا ہے۔ نہ صرف یہ کہ کشمیری عوام کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے بلکہ مقامی ثقافت، زبان اور معیشت کو بھی مستقل نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔

روہنگیا مسلمانوں کے کیس پر عالمی عدالت انصاف کا حرکت میں آنا خوش آئند ہے۔ یہ خوش کن تاثر دیتا ہے کہ ” جس کی لاٹھی اسکی بھینس” کے مصداق آج کے اصل اور عملی نظام میں عالمی عدالت انصاف کسی درجہ اپنی عملیت کے ساتھ موجود ہے اور مظلوم، کمزور، مجبور اور محکوم اقوام اور طبقات کی اُس تک رسائی اور دادرسی کا امکان باقی ہے اور یہ بھی کہ ریاستیں اس کے نتائج سے بچ نہیں سکتی ہیں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مظلوم کشمیری عوام کی سنوائی کب ہوگی؟ کشمیر کا مسئلہ بھی نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کا معاملہ ہے بلکہ یہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بھی خطرہ بن چکا ہے۔ دنیا کے سامنے یہ حقیقت آنا ضروری ہے کہ اگر کشمیری عوام کے حقوق کا تحفظ نہ کیا گیا تو جنوبی ایشیاء میں مزید جنگ، نفرت اور انسانی بحران پیدا ہوگا۔

کشمیری عوام کا صبر و برداشت اور جمہوری حقوق کی جدوجہد عالمی انصاف کے لیے ایک امتحان ہے۔ روہنگیا کیس کی طرح، کشمیر کے بارے میں بھی عالمی برادری کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں، بین الاقوامی قوانین اور انسانی اقدار کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کرے۔ اس میں صرف قراردادیں یا بیان بازی کافی نہیں بلکہ کشمیری عوام کی فوری حفاظت، بھارت کی ریاستی دہشتگردی پر مبنی پالیسیوں کا قانونی نوٹس اور مستقل سیاسی حل کی کوشش شامل ہونی چاہیے۔

یہ امر بھی قابلِ ذکرہے کہ کشمیر کا معاملہ عالمی سطح پر صرف ایک انسانی حقوق کا مسئلہ نہیں بلکہ جنوبی ایشیاء کےامن واستحکام، ایٹمی عدم پھیلاؤ، معاشی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے بھی کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر کشمیر کے سوال پر بھارت کو عالمی عدالت انصاف کے کٹہرے میں لایا نہ گیا، کشمیری عوام کے غصب شدہ حقوق کو اس سے واگذار نہ کرایا گیا تو خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ مزید بڑھے گی، انتہا پسندانہ سیاست اور عسکری تصادم میں اضافہ ہوگا اور انسانی بحران مزید سنگین ہو جائے گا۔ ایسے حالات میں عالمی عدالت انصاف کی سنجیدہ کارروائی اور روہنگیا کیس کی مثال کشمیری عوام کے لیے ایک رہنما اصول بن سکتی ہے کہ عالمی انصاف اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے عملی اقدام ممکن ہے۔

روہنگیا مسلمانوں کے کیس کی ICJ میں سماعت ایک مثبت قدم ہے لیکن کشمیری عوام کا مسئلہ بھی اسی طرح عالمی سطح پر سامنے آنا چاہیے۔ کشمیر کا مسلہ صرف کشمیری عوام کو ہی نسل کشی، تشدد، اجتماعی سزا اور آبادیاتی تبدیلی کی صورت میں متاثر نہیں کررہا بلکہ یہ پورے جنوبی ایشیاء کے 1.9 ارب انسانوں کو بھی بالواسطہ طور پر متاثر کر رہا ہے جن میں سب سے زیادہ بھارتی عوام ہیں۔ اگر عالمی برادری نے میانمار میں کارروائی کی ہے تو بھارت کی جانب سے کشمیر میں ہونے والے ظلم و ستم پر بھی سنجیدہ اور فوری کارروائی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ کشمیری عوام کے حقوق کے تحفظ اور استصواب رائے کے مسلمہ اصول کی بنیاد پر مسلہ کشمیر کے حل کے بغیر جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن، انسانی تحفظ اور استحکام کا قیام ممکن نہیں۔

یہ وقت ہے کہ عالمی عدالت انصاف، انسانی حقوق کی تنظیمیں، اقوامِ متحدہ اور دنیا کی طاقتورو وانصاف پسند ریاستیں کشمیری مظلومین کو بھی انصاف دلانے کے ویسے ہی سامان پیدا کریں جیسا کہ روہنگیا مسلمانوں کے لیے گیمبیا جیسے ایک غریب اور پسماندہ ملک نے کیا۔ کشمیر کا نوٹس لینا نہ صرف انسانی ضمیر کی پکار ہے بلکہ یہ خطے میں جنگ، انتہا پسندی اور انسانی بحران کے خاتمے کے لیے بھی لازم ہے۔ ورنہ، جنوبی ایشیاء میں عدم استحکام، انسانی حقوق کی پامالی اور قدرتی وسائل کو بھی ہتھیار بنانے کی روش جاری رہے گی اور خطہ ایک مہیب انسانی بحران کا شکار ہوجائے گا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مزید دیکھئے
Close
Back to top button