مقبوضہ جموں و کشمیر

مقبوضہ جموں وکشمیر:ہائی کورٹ نے ضمانت کی منظوری کے باوجود نوجوان کی نظربندی کا حکم برقراررکھا

سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں ہائی کورٹ نے کالے قوانین کے غلط استعمال کو جواز فراہم کرتے ہوئے ترال کے ایک نوجوان کو کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظربند رکھنے کے احکامات کو برقرار رکھا اوریہ فیصلہ دیا کہ ضمانت کی منظوری حکام کوکسی شخص کو جیل میں ڈالنے سے نہیں روکتی ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق جسٹس شہزاد عظیم نے یکم مئی 2025 کو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ پلوامہ کی طرف سے گلشن پورہ ترال کے 25سالہ ثاقب اکبر وازہ کی نظر بندی کے حکم کوبرقراررکھتے ہوئے ان کی حبس بیجا کی درخواست کو خارج کر دیا۔ ثاقب اس وقت جموں کی کٹھوعہ جیل میں نظربند ہے۔ درخواست گزار نے استدعا کی تھی کہ نظربندی کا حکم دینے والی اتھارٹی نے بغیر سوچے سمجھے پولیس کے ڈوزیئر پر بھروسہ کیا اورانہیں نظربندی کا حکم،نظربندی کی وجوہات اور معاون مواد فراہم نہیں کیا گیا اورنہ وجوہات کی اردو یا کشمیری میں وضاحت کی گئی ۔ ثاقب اکبر وازہ کوپہلے ہی ان ایف آئی آرز میں ضمانت مل چکی ہے جو نظربندی کی وجوہات بیان کی گئی ہیں۔عدالت نے درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حفاظتی نظر بندی احتیاطی اورمعیاری طور پر تعزیری قید سے مختلف ہے۔ عدالت نے کہاکہ مقدمہ چلانے سے پہلے، اس کے دوران یا بری ہونے کے بعد بھی حکم دیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ کارروائی سے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے اطمینان کا براہ راست اور قریبی تعلق ہے۔
قانونی ماہرین نے کہا کہ اس فیصلے سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ عدالتوں کی طرف سے ضمانت دینے کے باوجود کس طرح کشمیری نوجوانوں کو غیر معینہ مدت تک جیل میں رکھنے کے لیے پی ایس اے کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ سرینگر میں مقیم ایک وکیل نے بتایاکہ یہ انصاف کا مذاق ہے۔انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ ہزاروں کشمیری کالے قانون پی ایس اے کے تحت نظر بند ہیں اور عدالتیں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹس کے اطمینان کا بہانہ بناکرکیسز کو ملتوی کرتی ہیں، جس سے مقبوضہ جموں وکشمیرمیں آئینی ضمانتیںبے معنی ہوکررہ گئی ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button