گودی میڈیا کی جعلی خبروں کی مہم، پاکستان کو ایران اسلحہ تنازع سے جوڑنے کی کوشش بے نقاب
اسلام آباد: بھارت کے گودی میڈیا اور بعض نام نہاد دفاعی حلقوں کی جانب سے امریکہ-ایران کشیدگی کے دوران پاکستان اور چین کو ایران کو ہتھیاروں کی فراہمی میں سہولت کے غیر مستند دعوئوں سے جوڑنے کی مہم بے نقاب ہو گئی ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ مہم خطے میں جنگی ماحول کو ہوا دینے، پاکستان کے خلاف منفی تاثر قائم کرنے اور اس کی سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی میڈیا نے 29جولائی بروز بدھ کو غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی گمنام ذرائع کے حوالے سے ایک رپورٹ میں سامنے آنے والے غیر مصدقہ امکان کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیاہے کہ پاکستان ایران کو چینی ساختہ ہتھیاروں کی مبینہ منتقلی میں کردار ادا کر رہا ہے، حالانکہ نہ امریکی انٹیلی جنس اداروں نے اس کی تصدیق کی اور نہ ہی کسی آزاد بین الاقوامی ادارے نے اس حوالے سے کوئی قابلِ اعتماد ثبوت پیش کیا۔رپورٹ میں صرف یہ امکان ظاہر کیا گیا تھا کہ ہانگ کانگ کے ایک ثالث کے ذریعے ایران کو چینی ساختہ کندھے سے فائر کیے جانے والے فضائی دفاعی نظام MANPADSفراہم کیے جا سکتے ہیں اور ابتدائی فضائی راستہ ممکنہ طور پر پاکستان سے گزر سکتا ہے۔ تاہم بھارتی میڈیا نے محض جغرافیائی امکان کو پاکستان کی ریاستی معاونت اور عملی شمولیت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی۔چین نے ان اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا، جبکہ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے بھی پاکستان کے مبینہ کردار سے متعلق تمام قیاس آرائیوں کو من گھڑت اور جھوٹا قرار دیا۔رپورٹ کے مطابق امریکہ کی جانب سے بھی پاکستان کے کسی فعال کردار، ہتھیاروں کی فراہمی یا لاجسٹک معاونت کی کوئی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اس کے باوجود بھارتی پروپیگنڈا حلقوں نے ایک مبینہ پاکستان-چین-ایران اسلحہ اتحاد کا بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کی۔مبصرین کا کہنا ہے کہ چین اور ایران کے درمیان دیرینہ سفارتی تعلقات موجود ہیں، جبکہ پاکستان خطے میں کشیدگی کے خاتمے، تنازعے کے سفارتی حل اور امن کے فروغ پر زور دیتا رہا ہے۔ ان کے مطابق غیر مصدقہ الزامات کو بنیاد بنا کر پاکستان کو علاقائی تنازعات میں گھسیٹنے کی کوشش بھارت کی پرانی حکمت عملی کا حصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے گودی میڈیا کی جانب سے پاکستان اور چین کے معمول کے دفاعی تعاون کو ایران کے ساتھ جوڑنا حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کے مترادف ہے۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی دفاعی درآمدات میں چین کا نمایاں حصہ رہا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان ایک طویل المدتی دوطرفہ دفاعی تعاون ہے تاہم اس کا ایران کو مبینہ اسلحہ منتقلی کے دعوے سے کوئی ثابت شدہ تعلق نہیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارتی میڈیا کی یہ مہم ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب نئی دہلی اسرائیل کے ساتھ اپنے دفاعی اور انٹیلی جنس تعلقات کو مزید وسعت دے رہا ہے۔ بھارت اور اسرائیل کے درمیان ڈرونز، میزائل نظام، نگرانی کی ٹیکنالوجی اور دیگر دفاعی شعبوں میں تعاون موجود ہے۔مبصرین کے مطابق بھارت کی جانب سے غیر مصدقہ خبروں کو فروغ دینا نہ صرف پاکستان اور ایران کے تعلقات کو متاثر کرنے کی کوشش ہے بلکہ اس کا مقصد چین کے کردار کو متنازع بنانا اور خطے میں خوف و بے اعتمادی کی فضا پیدا کرنا بھی ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ جعلی اطلاعات اور قیاس آرائیوں پر مبنی بیانیے خطے کو امن اور سفارت کاری کے بجائے تصادم کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ علاقائی امن کے لیے ضروری ہے کہ فیصلے ثبوت، ذمہ دار صحافت اور سفارتی اصولوں کی بنیاد پر کیے جائیں، نہ کہ بے بنیاد الزامات اور جنگی پروپیگنڈے پر۔







