”کشمیر پاکستان کی شہ رگ تھا، ہے اور رہے گا ” ڈی جی آئی ایس پی آر
2025میں بھارت کی اگلی پچھلی طبیعتیں صاف کر لی گئیں۔پریس بریفنگ

اسلام آباد: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ( آئی ایس پی آر ) کے ڈائر یکٹر جنرل نے کہا ہے کہ جموں وکشمیر پاکستان کی شہ رگ تھا، ہے اور رہے گا۔ کشمیری بھی” ہم پاکستانی ہیں ، پاکستان ہمارا ہے ” کا نعرہ لگا کر پاکستان کے ساتھ اپنی وابستگی کا برملا اظہار کرتے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے انسداد دہشت گردی اور سیکورٹی معاملات پر آج اپنی پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں 10لاکھ کے قریب اہلکار تعینات ہیں اور بھارت نے علاقے کو دنیا کے سب سے بڑے فوجی تعیناتی والے خطے میں تبدیل کر دیا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ بھارتی جبر و استبداد اور ظالمانہ نظام کے سبب 1947سے اب تک بڑی تعداد میں کشمیری وہاں سے ہجرت کر کے آزاد کشمیر آئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر تقسیم ہند کا ایک نامکمل ایجنڈہ ہے ۔ انہوںنے کہا کہ پاکستان نے 2019میں بھارت کی طبیعت صاف کی تھی جبکہ 2025میں تو اسکی اگلی پچھلی طبیعتیں صاف کر لی گئی تھیں ۔ مقبوضہ جموںوکشمیر کے لوگ بھارتیوں سے پوچھ رہے ہیں کہ پہلگام میں تمہاری سیکورٹی کدھر تھی ۔ انہوںنے مزید کہا کہ پاکستان کا سب سے لاڈلا بچہ کشمیر ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے آزاد جموں و کشمیر کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں ڈنڈے کے زور پر اپنی منوائیں، ریاست نے مظاہرین سے کہا کہ آپ الیکشن لڑیں،اسمبلی میں آئیں، ان کا ایجنڈا سب کے سامنے واضح ہوتا جارہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ کہ ملک میں گزشتہ5 سال کے دوران بڑے پیمانے پر انسداد دہشت گردی آپریشنز کیے گئے، بلوچستان میں اب تک 31 ہزار انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے جا چکے ہیں جبکہ کے پی کے میں 7177 آپریشنز کیے جا چکے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اس سال اب تک 819 افراد دہشت گردی کی کارروائیوں میں شہید ہو چکے ہیں، دہشتگردی کے خلاف لڑتے ہوئے فوج کے 303 جوان شہید ہوئے، 322 شہری بھی دہشت گرد کارروائیوں میں شہید ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا اس عرصے کے دوران2084 مصدقہ دہشت گرد مارے گئے، سکیورٹی فورسز نے 194 آپریشن روازانہ کیے ہیں، ہر روز10 دہشت گرد مارے گئے، مجموعی طورپر 28 خود کش حملوں کے واقعات ہوئے، زیادہ تر بم دھماکوں میں افغان باشندے ملوث ہیں، ٹانک،کراچی میں پیش آنے والے واقعات میں افغانی ملوث تھے، افغانستان کی طالبان رجیم دہشت گردوں کی معاونت کر رہی ہے، ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھاکہ دہشت گردوں سے بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں ہے، دہشت گرد یا تو قانون کے مطابق ہتھیار ڈال دیں یا پھر ہم ان کے خلاف لڑیں گے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان سے متعلق جان بوجھ کر پروپیگنڈا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کیونکہ ایلیٹ اور سردار چاہتے ہیں کہ غریب کا بچہ آگے نہ بڑھے، دہشتگردوں کا ایک قبیلہ ہے جس میں اسٹیٹس کو ہے، اسٹیٹس کویہ ہے کہ غریب کا بچہ پڑھے نہیں، ہمیشہ ان کا غلام رہے، بلوچستان کا مسئلہ وہاں کے سردار اورایلیٹ طبقہ ہے، ان کو اپنے ذاتی گھروں کی چوکیداری کیلئے لیویزفورس چاہیے، ہم ایلیٹ کلاس اور سردار سے نہیں بلوچستان کے لوگوں سے بات کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ افغان طالبان رجیم کا ایک ہی کام ہے یہ دہشتگردی کوبطورکاروبارکرتے ہیں، افغانستان اوربھارت کے درمیان بی ایل اے کے علاوہ اورکیا چیزمشترکہ ہے؟۔ انہوں نے کہا کہ آئین اور قانون سب کے لیے برابر ہے،، ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ریاست کے ساتھ وفادار ہوں کیونکہ ریاست ہے تو سیاست ہے، ریاست تو ہم سب کی جان ہے، پاکستان ہی ہماری پہلی اور آخری پہچان ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ فتن الخوارج، فتن الہندوستان اور ان کے بھارت میں بیٹھے ہینڈلرز اب سافٹ ٹارگٹ کو نشانہ بنا رہے ہیں، اس سال اب تک 178 عام شہریوں کو شہید کیا جا چکا ہے، انہوں نے 24 مقامات پر پلوں اور سڑکوں کو تباہ کیا گیا، 60 مقامات پر آگ لگائی گئی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی300 سے زائد بوگس ویب سائٹ بلوچستان کیخلاف پروپیگنڈا کررہی ہیں، بوگس ویب سائٹس مختلف پلیٹ فارمزکے ذریعے نفرت اورتقسیم کو ہوا دے رہی ہیں۔








