مقبوضہ جموں و کشمیر

مقبوضہ جموں وکشمیرمیں تباہ کن سیلاب کے 12 سال بعد بھی جامع حکمت عملی کا فقدان

 

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں 2014 کے تباہ کن سیلاب کے12 سال بعد بھی سیلابوں کو روکنے اوران سے نمٹنے کے لئے ایک طویل مدتی اور جامع حکمت عملی کہیں نظر نہیں آتی۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سینٹرل واٹر اینڈ پاور ریسرچ سٹیشن (سی ڈبلیو پی آر ایس) نے ایک تحقیق میں ایک مربوط فلڈ مینجمنٹ پلان کی سفارش کی تھی جس میں سیلابی پانی کے اخراج کے راستوں کو بہتربنانا، پانی کو روکنے کے لئے آبی ذخائر اور ڈیموں کی تعمیر اور پانی کے اخراج کے نالوں کو چوڑا کرنا شامل ہے تاکہ مستقبل میں آنے والے سیلاب کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔لیکن کئی سال گزرنے کے باوجود یہ تجاویز صرف کاغذوں تک ہی محدود رہیں جبکہ قابض حکام نے محض دریاﺅں کی صفائی اور دیگر عارضی اقدامات پر توجہ مرکوز کی۔ حکام نے بتایا کہ مختلف ماہرین کی آراءاور بعد میں تکنیکی جائزوں نے جامع منصوبے پر عمل درآمدکو روک دیا۔مبصرین کاکہنا ہے کہ سیلاب سے نمٹنے کی مو¿ثر حکمت عملی اپنانے میں مسلسل تاخیر نے وادی کشمیر کو بار بار سیلاب کے خطرات سے دوچار کر دیا ہے جس سے خطے کے سب سے اہم ماحولیاتی اور عوامی تحفظ کے چیلنجوں سے نمٹنے میں سرکاری غفلت کا پردہ فاش ہو گیا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button