بھارت : اترپردیش کے اسپتال میں نمازادا کرنے پر مسلماں خاتون کو ہراساں کیا گیا

نئی دہلی : بی جے پی کے زیر اقتداربھارتی ریاست اتر پردیش میں ضلع ہاپور کے ایک اسپتال میں نماز اداکرنے پرایک مسلمان خاتون کو ہراساں کیا گیا جبکہ نماز کے دوران ایک شخص نے اپنے موبائل فون پر ہندو بھجن ہنومان چالیسہ بجانا شروع کیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں سوربھ پرتاپ نامی ایک شخص کو دیکھا جاسکتا ہے جو اسپتال کے احاطے میںمسلمان خاتون کی نماز میں خلل ڈالنے کے لیے یوٹیوب سے ہنومان چالیسہ کی ریکارڈنگ چلا رہا ہے۔اس واقعے کو ریکارڈ کیا گیا اور بعد میں اسے آن لائن شیئر کیا گیا جس پر بڑے پیمانے پر تنقید کی گئی۔ لوگوں نے اس عمل کی مذمت کرتے ہوئے اسے مذہبی ہراسانی قرار دیا اور نجی عبادت میں مصروف خاتون کی ریکارڈنگ کرنے اورسوشل میڈیا پرپوسٹ کرنے پر سوال اٹھایا۔ صارفین نے ایکس پراپنی پوسٹس میں عوامی مقامات پر اپنے مذہب پر عمل کرنے والے لوگوں کے تئیں زیادہ حساسیت پر زوردیا۔ہسپتال کے چارٹر میں کہا گیا ہے کہ احاطے میں خاموشی برقرار رکھی جانی چاہیے اور مریضوں کو پریشان کرنے والے غیر ضروری شور سے گریز کیا جانا چاہیے۔ ہاپور پولیس نے سوشل میڈیا پر کہا کہ پلکھوا کے اسٹیشن ہاوس آفیسر کو تحقیقات کرنے اور ضروری کارروائی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ہسپتال کی طرف سے کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیاگیا۔








