بھارت

آسام:سکھ لیڈر امرت پال سنگھ ایک اور جھوٹے مقدمے میں دوبارہ گرفتار

امرتسر:بھارتی ریاست آسام میں پولیس نے سخت گیرقومی سلامتی ایکٹ کے تحت نظربندی کی مدت ختم ہونے کے باوجود سکھ رہنما امرت سنگھ پال کو ایک اورجھوٹے مقدمے میں دوبارہ گرفتار کر لیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی حکام نے امرت پال سنگھ کے خلاف پنجاب کے اجنالہ پولیس اسٹیشن میں مبینہ تشدد کے ایک کیس کے تحت نیا مقدمہ درج کیا ہے۔ اس اقدام کو ان کی طویل نظربندی کا قانونی جواز فراہم کرنے اور رہائی میں تاخیر کی ایک دانستہ کوشش قراردیاجارہاہے۔گرفتاری کے بعد امرت پال سنگھ کو آسام کی ڈبرو گڑھ جیل سے ویڈیو لنک کے ذریعے اجنالہ سب ڈویژنل عدالت میں پیش کیا گیا۔ پولیس نے عدالت سے مزید تفتیش کے لیے 15روزہ ریمانڈ کی درخواست کی، تاہم عدالت نے صرف دو روزکے ریمانڈ پر انہیں پولیس کی تحویل میں دینے کی اجازت دی۔
واضح رہے کہ امرت پال سنگھ سے23اپریل 2023سے ڈبرو گڑھ سینٹرل جیل میں قید ہیں۔ ان کی گرفتاری کے بعد ان کے متعدد قریبی ساتھیوں کو بھی اسی قانون کے تحت گرفتارکیا گیاہے، جن میں پاپل پریت سنگھ، دلجیت سنگھ کلسی، کلونت سنگھ، ورندر جوہل، گرمیت سنگھ بھکھانوالا، ہرجیت سنگھ، بسنت سنگھ، گروندر سنگھ اوجلا اور بھگونت سنگھ شامل ہیں۔ان ساتھیوں کو بعد ازاں پنجاب منتقل کیا گیا تھا جہاں ان کے مقدمات اجنالہ عدالت میں زیر سماعت ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ واقعہ بھارت میں اختلافِ رائے رکھنے والے سکھ لیڈروں کے خلاف جاری سخت گیر پالیسی اور قانونی دبائو کے تسلسل کی عکاسی کرتا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button