سرینگر:قابض انتظامیہ نے میرواعظ عمر فاروق کو پھر گھر میں نظر بندکردیا
میر واعظ کو جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی

سرینگر: غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی قابض انتظامیہ نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنماء میرواعظ عمر فاروق کو آج ایک بار پھر گھر نظر بند کر دیا اور انہیں نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے تاریخی جامع مسجد سرینگر جانے سے روک دیاگیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق میرواعظ عمر فاروق نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری ایک بیان میں سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ربیع الاول کے بابرکت مہینے کے آغاز سے قبل انہیں دوبارہ خانہ نظر بند کردیا گیا ہے۔انہوں نے جمعہ کے روز بار بارعائد کی جانیوالی بلاجواز پابندیوں کوانتہائی قابلِ مذمت قراردیا۔انہوں نے بھارتی حکام کے صورتحال معمول پر آنے کے دعوے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ انہیں بار بار جامع مسجد جانے سے روکنے سے قابض انتظامیہ کے اس بیانیے کی قلعی کھل گئی ہے۔
ادھر میرواعظ عمر فاروق نے جموں و کشمیر سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں کو ربیع الاول کی آمد کی مبارک باد دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مہینہ سیرت و سنت رسول اکرم ۖ سے تعلق کی تجدید اور آپ ۖ کے پیغامِ ایمان، رحمت، عدل، حسن اخلاق اور خدمت انسانیت پر غوروفکر کا اہم موقع ہے۔انجمن اوقاف جامع مسجد نے اعلان کیا ہے کہ میرواعظ 3ربیع الاول بروز پیر کو تاریخی خانقاہِ نقشبند صاحب، خواجہ بازار، سرینگر میں خوجہ دِگر کے اجتماع سے خصوصی خطاب کریں گے۔ اجتماع نمازِ ظہر سے عصر تک جاری رہے گا۔






