محبوبہ مفتی کابابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی میں جاری بحران پراظہار تشویش

سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے راجوری کی بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی میں تعلیمی، انتظامی اور مالیاتی معاملات کی ابتر صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق محبوبہ مفتی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی خطہ پیر پنجال کے لوگوں کے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے اور اس کا قیام راجوری، پونچھ اور ملحقہ علاقوں کے طلباءکو معیاری اعلیٰ تعلیم فراہم کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انتظامی اور مالی مشکلات کی وجہ سے ادارے کو کمزوکرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔انہوں نے طویل عرصے سے مستقل بھرتیاں نہ کرنے اور کنٹریکٹ اور عارضی تعلیمی انتظامات پر مسلسل انحصار پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بار با رعارضی بنیادوں پربھرتیاں شفاف، مستقل اور مقررہ وقت کی بھرتیوںکا متبادل نہیں ہو سکتیں، خاص طور پر ایسی یونیورسٹی میں جو ایک بڑے اور جغرافیائی طور پر پسماندہ علاقے کی ضروریات کو پورا کرتی ہو۔محبوبہ مفتی نے یونیورسٹی ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر کی خبروں پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہاکہ رپورٹس کے مطابق کئی مہینوں سے ترقیاں،انتظامیہ میں خالی آسامیوں کی بھرتیاں اورتنخواہیں رکی ہوئی ہے جس سے تحقیقی سرگرمیوں متاثر ہورہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال نہ صرف ملازمین کے حوصلے اور وقار کو متاثر کرتی ہے بلکہ اس کا براہ راست اثر تعلیم کے معیار اور تسلسل پر بھی پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت تک اعلیٰ تعلیمی اداروں کے پھلنے پھولنے کی توقع نہیں کی جا سکتی جب تک ان کے اساتذہ اور ملازمین اپنی تنخواہوں کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کا شکار ہوں اورمحکمے عارضی انتظامات پر انحصارکرتے ہوں ۔ انہوں نے کہاکہ باباغلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی کو عارضی حل کی نہیں بلکہ ادارہ جاتی استحکام کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کو درپیش مشکلات کو محض ایک انتظامی مسئلے کے طورپر نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ خطہ پیر پنجال کے تعلیمی مستقبل کے طور پر دیکھا جانا چاہئے۔انہوں نے کہاکہ ایسے طلبا کے لیے جو اعلیٰ تعلیم کے لیے خطے سے باہر جانے کی استطاعت نہیں رکھتے، یونیورسٹی پیشہ ورانہ اور تعلیمی مواقع کے لیے ایک اہم ذریعہ ہے۔








