مقبوضہ کشمیر سے متعلق امریکی سفیر کے متنازعہ بیان پر محبوبہ مفتی کی کڑی تنقید
2019کے بعد غیر ملکی سفارت کاروں کے مقبوضہ کشمیر کے دورے طے شدہ ہوتے ہیں، محبوبہ مفتی
سرینگر: بھارت میں امریکی سفیر سرجیو گور کے غیر قانونی طورپر زیر قبضہ جموں و کشمیر کے دورے کے بعد متنازعہ بیان پرپیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ 2019کے بعد سے غیر ملکی سفارت کاروں کے مقبوضہ علاقے کے دورے پہلے سے طے شدہ پروگرام کے تحت ہوتے ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق محبوبہ مفتی نے ایک بیان میں کہا کہ 2019سے قبل غیر ملکی سفارت کار مقبوضہ کشمیر آکر معاشرے کے مختلف طبقات سے ملاقاتیں کرتے تھے اور زمینی حالات کے بارے میں معلومات حاصل کرتے تھے، تاہم اب صورتحال مختلف ہے۔انہوں نے کہاکہ 2019کے بعد سے یہ سفارتی دورے طے شدہ ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اب غیر ملکی سفیر مقبوضہ علاقے آتے ہیں، بھارت کے مقرر کردہ لیفٹیننٹ گورنر یاکٹھ پرپتلی وزیر اعلیٰ سے ملاقات کرتے ہیں، شکارے کی سیر کرتے ہیں اور واپس چلے جاتے ہیں۔محبوبہ مفتی کا یہ ردعمل بھارت میں امریکی سفیر سرجیو گور کے سرینگر کے دورے کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے ۔ دورے کے دوران امریکی سفیر نے جموں و کشمیر کو "بھارت کا ایک اہم حصہ”قرار دیاتھا۔محبوبہ مفتی نے امریکی سفیر کوکشمیری عوام کے تحفظات سے آگاہ نہ کرنے پر عمر عبداللہ پربھی کڑی تنقید کی ۔ انہوں نے کہاکہ عمر عبداللہ کوامریکی سفیر کو مقبوضہ علاقے میں بھارتی فورسز کی کارروائیوں ،بڑے پیمانے پر گرفتاریوں، ملازمتوں سے برطرفی، چھاپوں اور جائیدادوں کی ضبطی کے بارے میں بتانا چاہیے تھا۔
دوسری جانب جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ نے امریکی سفیر کے بیان پر ردعمل ظاہرکرتے ہوئے بی جے پی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایاہے ۔انہوں نے کہاکہ ملکی معاملات میں بیرونی مداخلت میں اضافہ مودی حکومت کی ناکام پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر آج کوئی تیسرا فریق جموں و کشمیر کے معاملے میں مداخلت کر رہا ہے تو اس کی بنیادی وجہ موجودہ مرکزی حکومت کی ناکام پالیسی ہے۔





