سکھ تنظیموں کا آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے دور امریکا کی مخالفت
امریکی وزیر خارجہ سے موہن بھاگوت کو امریکہ آنے سے روکنے کا مطالبہ
واشنگٹ:امریکہ میں قائم سکھ تنظیموں نے ہندوقوم پرست تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت کے 25اگست بروز منگل کو دورہ امریکا کی مخالفت کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں امریکا آنے سے روکا جائے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتی جریدے دی وائر کی رپورٹ میں کہاگیاہے کہ تین امریکی سکھ تنظیموں نے مارکو روبیو کے نام اپنے خط میں کہا ہے کہ آر ایس ایس اور اس سے وابستہ تنظیموں کا سکھوں، مسلمانوں، عیسائیوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد، امتیازی سلوک اور مظالم کا طویل ریکارڈ موجود ہے۔مراسلے میں امریکی حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ہندوتوا تنظیموں کے رہنمائوں کو سفارتی مراعات یا اعلی سطح رسائی فراہم نہ کرے جو مذہبی اقلیتوں کو نقصان پہنچانے کے الزامات کا سامنا کر رہی ہیں۔دی وائر کے مطابق امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے بھی 19اگست کو آر ایس ایس کے خلاف پابندیوں کا مطالبہ کیاتھا، جس سے بھارت میں مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق کی صورتحال پر عالمی تشویش کا اندازہ ہوتا ہے۔انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں امتیازی پالیسیوں، نفرت انگیز تقاریر اور سیاسی مقدمات کے ذریعے اقلیتوں، پسماندہ طبقات اور حکومت کے ناقدین کے خلاف دبا ئواور تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ آر ایس ایس، وشوا ہندو پریشد اور بھارتیہ جنتا پارٹی سے وابستہ ہندوتوا سیاست نے بھارت میں مذہبی اور سماجی تقسیم کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ان کے مطابق اقلیتوں کے خلاف مبینہ امتیازی رویوں اور تشدد کے واقعات نے بھارت کے جمہوری تشخص اور مذہبی آزادی کے دعوں پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔








