بجلی کے نرخوں میں اضافے کے خلاف سرینگر میں احتجاجی مظاہرے

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے بجلی کے نرخوں میں اضافے کے خلاف سرینگر میں احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے قابض انتظامیہ کی مذمت کی اور کہا کہ انتخابات کے دوران عوام سے کیے گئے ریلیف کے وعدے پورے کرنے کے بجائے لوگوں پر معاشی مشکلات کا مزید بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق قابض انتظامیہ نے مقبوضہ علاقے میں بجلی کے نرخوں میں اوسطاً 6.83 فیصد اضافے کا اعلان کیاہے جویکم ستمبر 2026 سے نافذ العمل ہوگا۔پی ڈی پی نے سرینگر میں پارٹی کے ہیڈکوارٹر کے باہر احتجاج کیا اورپارٹی رہنماو¿ں اور کارکنوں نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر قابض حکام کے خلاف نعرے درج تھے۔مظاہرین نے کہا کہ عوام کو ریلیف کی توقع تھی لیکن اس کے برعکس بجلی کے نرخوں میں اضافے اور اسمارٹ میٹرز کی تنصیب کے ذریعے انہیں مزید مالی مشکلات میں دھکیلا جا رہا ہے۔مظاہرین نے حکام کی جانب سے انتخابات سے قبل مفت بجلی کی فراہمی سے متعلق کیے گئے وعدوں کو پورا نہ کرنے پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ بجلی کے نرخوں میں حالیہ اضافے نے انتظامیہ پر عوام کے اعتماد کو مزید مجروح کیا ہے۔
دریں اثناءاپنی پارٹی نے بھی سرینگر کے پریس انکلیو میں احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے بجلی کے نرخوں میں اضافے کی مذمت کی۔مظاہرین نے بجلی کے نرخوں میں اضافے کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بجلی کے بڑھتے ہوئے اخراجات پہلے ہی مہنگائی اور معاشی مشکلات سے دوچار عام لوگوں پر مزید بوجھ ڈالیں گے۔







