بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے کی طرف سے کشمیری خاتون کی جائید ا د ضبط کرنے کی کوشش

جموں:بھارت کے بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارے این آئی اے کی جانب سے سرینگر میں ایک کشمیری خاتون کے رہائشی مکان کو ضبط کرنے کی کوشش نے ایک بار پھر ثابت کردیاہے کہ کشمیری خاندانوں کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنانے اور کمزور بنیادوں پر انہیں ان کی جائیداد سے محروم کرنے کے لیے کالے قوانین کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق این آئی اے نے سرینگر کے اسٹیٹ زونیمار میں شمیما نامی خاتون کی ملکیت چھ مرلہ اور 116 مربع فٹ کے ایک مکان کو ضبط کرنے کی درخواست دائر کی ہے۔ شمیما، شالہ کدل واقعے سے متعلق درج مقدمے میں نامزد آہن رسول ڈار کی والدہ ہیں۔این آئی اے نے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون ‘یو اے پی اے’کے تحت درخواست دائر کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ مذکورہ مکان غیر قانونی سرگرمیوں کے سلسلے میں استعمال کیا گیا تھا۔ استغاثہ نے محض ایک چٹائی اور موبائل فون کی مبینہ برآمدگی کو بنیاد بنایا اور دعوی کیا کہ مکان میں ایک ہتھیار رکھا گیا اور حملے کی منصوبہ بندی کی گئی۔این آئی اے نے دہشت گردی کی آمدنی سے متعلق دفعات بھی عائد کرتے ہوئے مقدمے کی سماعت کے دوران جائیداد کو ضبط کرنے کی استدعا کی۔مکان ضبط کرنے کی کوشش اس لیے بھی تشویشناک ہے کہ یہ جائیداد شمیما کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔ اس طرح ایک کشمیری والدہ کی ملکیت کو خطرے میں ڈال دیا گیاہے، حالانکہ اس بات کا کوئی عدالتی فیصلہ موجود نہیں ہے کہ وہ کسی جرم میں ملوث رہی ہیں۔اس مقدمے سے ان مشکلات کی عکاسی ہوتی ہے جن کا سامنا کشمیری خاندانوں کو کالے قوانین کے تحت کرنا پڑ رہا ہے، جہاں خاندان کے کسی ایک فرد کے خلاف الزامات کی بنیاد پر اس کے رشتہ داروں کی جائیدادیں اور دیگر اثاثے بھی سرکاری کارروائی کی زد میں آ سکتے ہیں۔ ایسے اقدامات ان رشتہ داروں کو بھی سزا کا سامنا کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں جن پر نہ کوئی جرم عائد کیا گیا ہو اور نہ ہی انہیں کسی جرم میں سزا سنائی گئی ہو۔تاہم، عدالت نے این آئی اے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ این آئی اے کی خصوصی عدالت کے جج پریم ساگر نے قرار دیا کہ ریکارڈ پر ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں جس سے ثابت ہو کہ سرینگر کا مذکورہ مکان آہن رسول ڈار کی ملکیت ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ مکان اس کی والدہ شمیما کے نام پر ہے اور وہ اس مقدمے میں ملزم نہیں ہیں۔ چنانچہ عدالت نے این آئی اے کی درخواست کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔








