بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اقوام متحدہ کے نگران ادارے کا اظہارِ تشویش
پولیس نسلی بنیادوں پرماورائے عدالت قتل، بلاجواز گرفتاریوں اور تشدد کی مرتکب ہورہی ہے
جنیوا: اقوام متحدہ کے ایک نگران ادارے نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ قبائلی عوام، پسماندہ ذاتوں اور دیگر کمزور طبقات کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات کرے جنہیں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی طرف سے ماورائے عدالت قتل، تشدد اور گرفتاریوں کا سامنا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اقوام متحدہ کی نسلی امتیاز کے خاتمے سے متعلق کمیٹی (CERD) نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ بنگالی زبان بولنے والے مسلمانوں اور دیگر نسلی و مذہبی گروہوں کو نشانہ بنانے والے امتیازی سلوک، نفرت انگیز تقاریر اور نفرت پر مبنی جرائم کو فوری طور پر ختم کرے۔کمیٹی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اسے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی طرف سے درج فہرست قبائل اور درج فہرست ذاتوں سمیت نسلی اورمذہبی گروہوں اور قبائلی عوام بالخصوص دلتوںکے خلاف بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر شدید تشویش ہے۔بیان میں کہا گیا کہ ان خلاف ورزیوں میں نسلی بنیادوں پر تشدد، طاقت کا وحشیانہ استعمال، ماورائے عدالت قتل، قانونی کارروائی کے بغیر من مانی گرفتاریاں اور طویل نظربندیاں،بدسلوکی اور جنسی تشدد شامل ہیں۔ کمیٹی نے بھارتی حکام پر زور دیا کہ وہ ایسی تمام شکایات کی مکمل تحقیقات کریں اور ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لائیں۔ انسانی حقوق کے18 ماہرین پر مشتمل کمیٹی 182 رکن ممالک میں نسلی امتیاز کی تمام اقسام کے خاتمے سے متعلق کنونشن پر عمل درآمد کی نگرانی کرتی ہے۔ کنونشن کے تحت رکن ممالک نسلی امتیاز اورمحرومی کے خاتمے اور قانون کے مطابق مساوات کو یقینی بنانے کے پابند ہیں۔بھارت2007 کے بعد پہلی مرتبہ رواں ماہ کے آغاز میں کمی©ٹی کے سامنے پیش ہوا اور بھارتی وفد کی قیادت سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کی۔کمیٹی نے روہنگیا، بنگالی زبان بولنے والے مسلمانوں، تارکین وطن اور پناہ کے متلاشی افراد کو نشانہ بنانے والی کارروائیوں میں اضافے کی بھی نشاندہی کی۔کمیٹی نے کہا کہ پولیس نسلی بنیاد پر لوگوں کو روکتی ہے ، ان کی شناخت کرتی ہے اور قانونی کارروائی کے بغیر من مانی طورپر گرفتارکرتی ہے جبکہ تشدد اور بدسلوکی کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ کمیٹی نے ان افراد کی ملک بدری اور جبری واپسی پر بھی تشویش کا اظہار کیا جنہیں بین الاقوامی تحفظ کی ضرورت ہے۔ کمیٹی نے بھارت پر زور دیا کہ وہ ایسے گروہوں کے خلاف امتیازی سلوک، نفرت انگیز تقاریر اور نفرت پر مبنی جرائم سے فوری طور پر نمٹے، ان کے حقوق کا تحفظ کرے اور اجتماعی بے دخلی سے گریز کرے۔





