بھارتی فوجی نے حاملہ بیوی کو قتل کرکے موت کو حادثہ قرار دینے کی کوشش کی
ممبئی:بھارتی ریاست مہاراشٹر میں فوج کے 28 سالہ اہلکار دنیشور مدنے کو اپنی سات ماہ کی حاملہ بیوی کو گلا گھونٹ کر قتل کرنے اور اس کی موت کو حادثہ ظاہر کرنے کی کوشش پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں کہاگیاہے کہ ملزم بھارتی فوج کی 6 مراٹھا بٹالین میں تعینات ہے اور اسے واقعے کے اگلے روز مقبوضہ جموں و کشمیر روانہ ہونا تھا۔ ا س واقعے سے بھارتی فوج میں ظلم وبربریت، دھوکہ دہی اور احتساب کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے ہوئے ہیں۔مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر ایک حاضر سروس فوجی اپنے ہی گھر میں اس طرح کی بربریت کا ارتکاب کر سکتا ہے اور اسے چھپانے کی کوشش کر سکتا ہے تو اس سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بے پناہ اختیارات کے ساتھ تعینات بھارتی فورسز کے اہلکاروں پر الزامات کی چھان بین کے کشمیریوں کے مطالبات کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔انسانی حقوق کے اداروں نے 2025 میں بھارت میں ریاستی اداروں کے ہاتھوں کم از کم 23 مسلمانوں کی ہلاکتوں کی تصدیق کی جبکہ 2024 میں یہ تعداد 21 اور 2023 میں 20 تھی۔ 2025 میں کم از کم آٹھ واقعات مقبوضہ جموں و کشمیرسے رپورٹ ہوئے جن میں جعلی مقابلوں اور دورانِ حراست تشدد کے الزامات لگے ہیں۔2026 کے پہلے سات ماہ کے دوران پولیس یا پیراملٹری اہلکاروں کے ہاتھوں کم از کم 19 مسلمانوں کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔اتر پردیش میں انسانی حقوق کے نگران اداروں کی طرف سے پیش کیے گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2017 سے اب تک 17,043 پولیس کارروائیوں میں 289 افراد ہلاک اور 11,834 زخمی ہوئے۔ سرکاری اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ-26 2025 کے دوران مارچ 2026 کے وسط تک دورانِ حراست تقریباً 170 ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار ایک بات واضح کرتے ہیں کہ وردی کو بے گناہی کا خودکار ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔ دنیشور مدنے کے واقعے نے بھارتی فورسز پر ظلم وستم کے کشمیریوں کے الزامات کی آزادانہ تحقیقات اور شفافیت کی ضرورت کو مزید اجاگرکیا ہے۔فوجی اہلکار کی گرفتاری ایسے وقت میں عمل میں آئی ہے جب متنازعہ علاقے میں تعینات بھارتی فوجیوں میں ذہنی دباﺅ اور پرتشدد رویے کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں۔






