
نئی دہلی: بھارتی خلائی تحقیقی ادارہ (اسرو)مسلسل ناکام راکٹ تجربات، غیر معمولی اخراجات اور ماہرین کے استعفوں کے باعث شدید ادارہ جاتی و مالیاتی بحران سے دوچار ہے۔
کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق برطانوی نشریاتی ادارے نے یورپی خلائی ماہرین کی تازہ تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ اسرو کے بے جا اخراجات، ناقص منصوبہ بندی اور ادارہ جاتی ناکامیاں عالمی معیار کے مقابلے میں انتہائی شرمناک ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی خلائی ادارے کو درپیش چیلنجز محض تکنیکی نہیں بلکہ انتظامی، مالی اور سیاسی نوعیت کے بھی ہیں، جنہوں نے اسرو کو عالمی خلائی دوڑ میں پیچھے دھکیل دیا ہے۔
عالمی و یورپی ماہرین کی حالیہ تحقیقی رپورٹ میں انکشاف کہاگیاہے کہ بھارت دنیا میں سب سے مہنگی ناکام خلائی لانچنگ کرنے والے ممالک کی فہرست میں نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2025 کے دوران بھارت کی خلائی لانچنگ لاگت 13 ہزار 300 ڈالر فی کلوگرام تک جا پہنچی، جو کہ 3 ہزار 868 ڈالر کی عالمی اوسط لاگت کے مقابلے میں تین گنا سے بھی زیادہ ہے۔ سنگین تکنیکی و انتظامی چیلنجز اور بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث اب تک 100 سے زائد سینئر سائنسدان ادارے کو خیرباد کہہ چکے ہیں، جبکہ 57 سالہ تاریخ میں بھارتی خلائی ادارہ مجموعی طور پر محض 105 راکٹ لانچ کر پایا ہے۔معروف خلائی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ سیاسی مداخلت اور بجٹ میں غیر ضروری کٹوتیاں تحقیق کو تباہ کر رہی ہیں۔ 57 سالہ تاریخ میں اسرو مجموعی طور پر صرف 105 راکٹ لانچ کر سکا ہے، جبکہ چین، امریکہ اور روس جیسے ممالک اسی عرصے میں سینکڑوں کامیاب لانچنگز کر چکے ہیں اور بھارت کی لانچنگ کی کامیابی کی شرح عالمی اوسط سے کم ہے۔
سوشل میڈیا ایکس پر بھارتی صارفین نے اسرو کی کارکردگی کو ملکی وسائل کا ضیاع اور قومی شرمندگی قرار دیا ہے۔ ایک صارف نے ایکس پر لکھا کہ 13 ہزار ڈالر فی کلوگرام جبکہ چین کی لاگت نصف ہے اور کامیابی کی شرح 95 فیصد، تو پھر ہم کس ترقی کی بات کر رہے ہیں۔ دوسرے صارف نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ پہلے سادھو مسلمانوں کو بم کی دھمکی دے رہے ہیں، اب اسرو اپنے راکٹوں سے عوام کا پیسہ اڑا رہا ہے، مودی جی کا وکاس ہمارے بس کی بات نہیں۔ماہرین کے مطابق اگر اسرو نے فوری طور پر اپنی حکمت عملی، تحقیق، بجٹ مختص کرنے اور انسانی وسائل کے انتظام میں بنیادی اصلاحات نہ کیں تو بھارت عالمی خلائی دوڑ میں مزید پیچھے رہ جائے گا، خاص طور پر جب چین اپنی خلائی اسٹیشن اور چاند پر مشنز کامیابی سے مکمل کر رہا ہے، امریکہ تجارتی خلائی سیاحت اور مریخ مشنز کی تیاری کر رہا ہے، اور یورپ ماحولیاتی سیٹلائٹس اور مصنوعی ذہانت پر مبنی خلائی تحقیق میں مصروف ہے۔ بھارت ان تمام ممالک کے مقابلے میں نہ صرف پیچھے ہے بلکہ لاگت اور ناکامیوں کے لحاظ سے بدترین کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔








