مقبوضہ جموں وکشمیر : بجلی کے نرخوں میں اضافے کے خلاف احتجاجی مظاہرے

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بجلی کے نرخوں میں 6.83 فیصد اضافے کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق وادی کشمیر اور جموں خطے میں لوگوں نے نئے نرخوں کو فوری طور پر واپس لینے اور صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے جو پہلے ہی بجلی کی کٹوتیوں، بے روزگاری اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں۔مختلف سیاسی جماعتوںنے گاندربل اور جموں میں احتجاجی مظاہرے کیے اور مظاہرین نے مودی کی زیر قیادت بھارتی حکومت کی طرف سے بجلی کے نرخوں میں اضافے کی شدید مخالفت کی۔ گاندربل میں مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور وہ نرخوں میں اضافے کے خلاف نعرے لگارہے تھے۔ انہوں نے اسے عام گھرانوں بالخصوص پہلے ہی مہنگائی اور بے روزگاری سے دوچار کم اور متوسط آمدنی والے خاندانوں پر ایک اضافی بوجھ قرار دیا۔مظاہرین نے نئے نرخ فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کے بجائے صارفین کو سستی بجلی فراہم کی جانی چاہیے اور گھریلو اخراجات کے بڑھتے ہوئے بوجھ سے ریلیف دیا جانا چاہیے۔
دریں اثناءجموں کے علاقے گاندھی نگر میں بھی ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ ہوا جہاں مظاہرین کا کہنا تھا کہ بجلی کی طویل اور غیر اعلانیہ کٹوتیوں اور بڑھتے ہوئے بلوں کے باوجود بجلی کے نرخوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔مظاہرین نے سوال اٹھایا کہ بجلی کی فراہمی اور بنیادی سہولیات میں بہتری کے بغیر زیادہ نرخ عائد کرنے کا کیا جواز ہے۔ انہوں نے بجلی میں ریلیف اور دیگر عوامی خدمات سے متعلق عوام سے کیے گئے وعدے پورے نہ کرنے پر بھی انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔یہ احتجاج بجلی کے نرخوں میں اضافے پر بڑھتی ہوئی عوامی بے چینی کی عکاسی کرتے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب معاشی مشکلات اور بجلی کی ناکافی فراہمی کے حوالے سے تشویش بڑھ رہی ہے۔ بجلی کے نرخوں میں 6.83 فیصد اضافہ یکم ستمبر سے نافذ العمل ہونے جا رہا ہے جس کے باعث صارفین میں تشویش بڑھ رہی ہے۔ احتجاج سے ظاہر ہوتا ہے کہ بجلی کے نرخوں میں اضافے کی مخالفت سیاسی حلقوں سے آگے بڑھ رہی ہے اور عام صارفین بھی بجلی کی قیمت اور عوامی خدمات کے معیار پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔







