دنیا کو زیادہ جامع عالمی نظامِ حکمرانی کی ضرورت ہے: مسعود خان

اسلام آباد : امریکہ، چین اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق سفیر اور آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ دنیا کو حکمرانی کے ایک زیادہ جامع، منصفانہ اور موثر نظام کی ضرورت ہے جو ابھرتی ہوئی جغرافیائی سیاسی حقیقتوں کی عکاسی کرے اور گلوبل ساوتھ کو بامعنی آواز فراہم کرے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے سربراہی اجلاس کے حوالے سے ایک میڈیا انٹرویو میں مسعود خان نے کہا کہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد قائم ہونے والا بین الاقوامی نظام بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی، بلاکوں کی سیاست، یک طرفہ پن اور حل طلب تنازعات کے باعث غیر معمولی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ چین کا گلوبل گورننس انیشی ایٹو (GGI) ایک مربوط، کثیر مرکزی اور کثیرالجہتی نظام کا وژن پیش کرتا ہے۔ ان کے مطابق اس اقدام کو اقوام متحدہ کی جگہ لینے کی کوشش کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ اسے کثیرالجہتی نظام کو عصرِ حاضر کی حقیقتوں کے مطابق زیادہ موثر بنانے کی کوشش سمجھنا چاہیے۔مسعود خان نے زور دیا کہ گلوبل ساوتھ جو دنیا کی آبادی کی اکثریت پر مشتمل ہے، بین الاقوامی فیصلہ سازی میں زیادہ نمائندگی اور مساوات کا مطالبہ کرتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ دنیا کثیر مرکزی ہے اور اسلامی، چینی اور دیگر تہذیبوں کو بھی عالمی اصول و ضوابط کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرنے والے فریقوں کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔چین کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کو تعاون کی ایسی مثالیں قرار دیا جن کے ذریعے بنیادی ڈھانچہ، روزگار اور سرمایہ کاری پیدا ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک اب روزگار کے مواقع، زراعت اور عوام پر مرکوز ترقی کی جانب توجہ منتقل کر چکا ہے۔اقوام متحدہ میں اصلاحات کے حوالے سے مسعود خان نے کہا کہ جامع ادارہ جاتی تبدیلی میں کئی سال لگ سکتے ہیں، تاہم مرحلہ وار اقدامات اصلاحات کے عمل کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اصلاحات کا دائرہ سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کے دیگر اہم اداروں تک پھیلنا چاہیے۔ انہوں نے خودمختار مساوات، ترقی اور سلامتی کو عالمی حکمرانی کے ایک نئے نظام کے بنیادی عناصر قرار دیا۔








