نریندر مودی نے سرحدپار دہشت گردی کا معاملہ اٹھاکر دنیا کو بھارت کے خلاف کارروائی کی دعوت د ی
اسلام آباد: سیاسی مبصرین اورتجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بشکیک میں ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کی سربراہی کانفرنس میں سرحد پار دہشت گردی کا معاملہ اٹھا کر دراصل خود بھارت کے خلاف مقدمہ پیش کر دیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتی وزیرِ اعظم مودی نے کہا کہ جو ممالک سرحد پار دہشت گردی کو ریاستی پالیسی بناتے ہیں، انہیں جواب دہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔ انہوں نے زیرو ٹالرنس، دوہرے معیار سے گریز اور دہشت گردی کے پورے نظام کو ختم کرنے پر زور دیا جس میں مالی معاونت، بھرتی، انتہا پسندی کی جانب راغب کرنا اور محفوظ پناہ گاہیں شامل ہیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم مودی کے بیان کا اطلاق سب سے پہلے بھارت پر ہی ہونا چاہیے۔ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھارت کے ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں۔ بھارتی بحریہ کے افسر اور ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگ (RAW) کے ایجنٹ کلبھوشن یادوکوجنہوں نے اپنا نام حسین مبارک پٹیل رکھا تھا، دہشت گردی اور تخریبی سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر 3 مارچ 2016 کو ایران کی سرحد کے قریب بلوچستان کے علاقے ماشکیل میں گرفتار کیا گیا۔ پاکستانی فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے 10 اپریل 2017 کو جاسوسی، تخریب کاری اور دہشت گردی پر انہیں سزائے موت سنائی۔ ان کارروائیوں میں گوادر اور تربت میں بارودی سرنگوں اور دستی بم حملوں کی سرپرستی، جیوانی بندرگاہ کے قریب ریڈار اسٹیشن اور شہری کشتیوں پر حملے، تخریبی عناصر کی مالی معاونت، سبی اور سوئی میں گیس پائپ لائنوں اور بجلی کے کھمبوں کو دھماکوں سے نقصان پہنچانا، 2015 میں کوئٹہ میں بارودی سرنگ کے دھماکے اور ہزارہ اور شیعہ برادریوں پر حملے شامل ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کو امریکہ اور کینیڈا میں بھی سرحد پار کارروائیوں کے الزامات کا سامنا رہا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر بھی بھارتی ریاستی عناصر کے تخریبی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے معاملات سامنے آئے ہیں۔کینیڈا میں بھارتی ایجنٹوں کو خالصتان نواز رہنما اور کینیڈین شہری ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں ملوث ہونے کے لزامات کا سامنا رہا ہے۔ انہیں 18 جون 2023 کو برٹش کولمبیا کے شہر سرے میں واقع سکھ گوردوارے کے باہر گولی مار کر قتل کیا گیا تھا۔ اس مقدمے میں چار بھارتی شہریوں پر قتل کے الزامات عائد کیے گئے۔ کینیڈا کے سابق وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو نے بھارتی حکومت کے ملوث ہونے سے متعلق قابلِ اعتماد انٹیلی جنس کا حوالہ دیا تھا۔ کئی رپورٹس میں کنول جیت سنگھ جیسے بھارتی قونصلراور”را“ سے منسلک افراد اور بشنوئی نیٹ ورک سے روابط کا ذکر کیا گیاہے۔
2026 میں امریکی فردِ جرم میں لارنس بشنوئی اور ستندر جیت سنگھ (گولڈی برار) پر قتل کی منصوبہ بندی کا حکم دینے کا الزام عائد کیا گیا۔ امریکہ میں بھارتی شہری نکھل گپتا کے خلاف مقدمہ چلایا گیا اور بعد ازاں انہوں نے مین ہٹن کی وفاقی عدالت میں رقم کے عوض قتل، قتل کی سازش اور منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے کا اعتراف جرم کیا۔ یہ مقدمہ امریکہ میں مقیم خالصتان نواز کارکن اور امریکہ وکینیڈکی دہری شہریت رکھنے والے گ±رپتونت سنگھ پنوں کو نیویارک میں قتل کرنے کی مبینہ بھارتی سازش سے متعلق تھا۔ استغاثہ کے مطابق نکھل گپتا نے بھارتی حکومت کے ایک ملازم وکاش یادیو کی ہدایت پر کارروائی کی، جسے بھارت کے کابینہ سیکریٹریٹ اور”را“ سے منسلک بتایا گیا۔ مبینہ طور پر 100,000 امریکی ڈالر کی ادائیگی طے کی گئی تھی اور جون 2023 کے آس پاس 15,000 ڈالر پیشگی رقم دی گئی۔ گپتا کو زیادہ سے زیادہ 40 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
کینیڈا نے 29 ستمبر 2025 کو لارنس بشنوئی گینگ کوکریمنل کوڈ کے تحت دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا جو بنیادی طور پر بھارت سے سرگرم ایک بین الاقوامی جرائم پیشہ گروہ ہے اور قتل، فائرنگ، آتش زنی، بھتہ خوری اور تارکینِ وطن کو دھمکانے جیسی کارروائیوں میں ملوث رہاہے ۔ اس اقدام سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اثاثے منجمد یا ضبط کرنے اور مقدمات چلانے کے لیے اضافی قانونی اختیارات حاصل ہوئے۔ بشنوئی جو تقریباً 2015 سے بھارت میں قید ہے، اور اس کے ساتھیوں کو امریکی اور کینیڈین تحقیقات میں ہردیپ سنگھ نجر کے قتل اور دیگر پرتشدد کارروائیوں سے جوڑا گیا ہے۔ تجزیہ کارروں کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیرِ اعظم مودی کے اپنے اصول کے مطابق اب بھارت کو بھی جواب دہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔ اگر سرحد پار دہشت گردی ریاستی پالیسی ہے تو سب سے پہلے بھارت کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے ایس سی او کی سربراہ کانفرنس میں سرحدپار دہشت گردی کا معاملہ اٹھاکر درحقیقت دنیا کو بھارت کے خلاف کارروائی کرنے کی دعوت دے دی ہے۔



