سید علی گیلانی کی پانچویں برسی کے موقع پر کشمیر ہاوس اسلام آباد میں پروقار تقریب کا انعقاد
اسلام آباد: تحریکِ آزادی کشمیر کے عظیم قائد اور بابائے حریت شہید سید علی گیلانی کو ان کی پانچویں برسی پرخراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں و کشمیرشاخ اور جموں وکشمیر لبریشن سیل کے زیرِ اہتمام کشمیر ہاوس اسلام آباد میں ایک پروقارتقریب کا انعقاد کیا گیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق تقریب کی صدارت کل جماعتی حریت کانفرنس کے سابق کنوینر محمد فاروق رحمانی نے کی جبکہ مہمان خصوصی وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سید افتخار گیلانی تھے۔
تقریب میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماوں کے علاوہ پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والی مختلف سیاسی، مذہبی و سماجی شخصیات، سفارت کاروں اور دانشوروں نے شرکت کی۔ تقریب سے وزیر اعظم آزاد جموں کشمیربیرسٹر سید افتخار گیلانی، کل جماعتی حریت کانفرنس کے سابق کنوینر محمد فاروق رحمانی سینیٹر سراج الحق،سابق صدر آزاد جموں و کشمیر سردارمسعود خان، سابق سفیر عبدالباسط ، وزارتِ خارجہ میںڈی جی جنوبی ایشیا سجاد حیدر، امیر جماعت اسلامی آزاد جموں و کشمیر ڈاکٹر مشتاق خان ،سابق ا میر جماعت اسلامی آزاد جموں و کشمیر عبد لرشید ترابی ، ڈاکٹر فریال امرین، ڈاکٹر طلعت ساجد،الطاف حسین وانی، ایڈووکیٹ پرویز شاہ ، نجیب الغفور اور جموں و کشمیر لبریشن کمیشن کے راجہ افسر خان نے خطاب کیا۔مقررین نے بابائے حریت سید علی گیلانی کو ان کی عظیم جدوجہد، غیر متزلزل استقامت اور لازوال قربانیوں پر خراجِ عقیدت پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ سید علی گیلانی نے بھارت کے غیر قانونی تسلط سے جموں و کشمیر کی آزادی اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کردی۔ انہوں نے بھارتی ظلم و جبر، قید و بند، تشدد اور دیگر صعوبتیں برداشت کیں، لیکن اپنے اصولی مو¿قف اور مقصد سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے۔ انہوں نے کہا کہ سید علی گیلانی ایک انقلابی، نظریاتی، دوراندیش اور بااصول رہنما تھے جو آخری سانس تک اپنے مو¿قف پر چٹان کی طرح ڈٹے رہے۔ ان کی سیاسی بصیرت، استقامت اور قربانیاں تحریکِ آزادی کشمیر کے لیے مشعلِ راہ ہیں اور انہیں تاریخ میں ہمیشہ سنہرے حروف میں لکھاجائے گا۔ مقررین نے کہا کہ سید علی گیلانی نے بھارتی سازشوں، مکاریوں اور ریشہ دوانیوں کا برسوں پہلے ادراک کرلیا تھا۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی حکومت کی جانب سے کیے جانے والے غیر قانونی اور جابرانہ اقدامات کے بارے میں مرحوم قائد نے بہت پہلے کشمیری عوام اور عالمی برادری کو آگاہ کردیا تھا، جو ان کی غیر معمولی سیاسی بصیرت اور دوراندیشی کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت سمجھتا تھا کہ سید علی گیلانی کی شہادت سے کشمیریوں کی آواز خاموش ہوجائے گی، لیکن آج بھی کشمیر کے ہر گھر میں ان کا نظریہ اور آواز موجود ہے۔

ان کا مشہور نعرہ ”ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے“ آج بھی کشمیری عوام کے جذبات کی ترجمانی کرتا ہے اور بھارتی ریاستی جبر اس آواز کو دبانے میں ناکام رہا ہے۔ مقررین نے کہا کہ سید علی گیلانی اور تحریکِ آزادی کشمیر کے دیگر شہداءکشمیری قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ ان کی قربانیوں نے تحریکِ آزادی کو نئی قوت اور سمت عطا کی اور مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سید علی گیلانی نے جو مشن اور نظریہ کشمیری قوم کے سپرد کیا ہے، اسے ہر مشکل اور آزمائش کے باوجود منزل کے حصول تک جاری رکھا جائے گا۔ مقررین نے کہا کہ بھارتی ظلم و جبر، گرفتاریوں، پابندیوں اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے باوجود کشمیری عوام اپنی جدوجہد سے دستبردار نہیں ہوئے اور اپنے جائز حق کے حصول کے لیے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے کشمیری عوام کا جائز حقِ خودارادیت سلب کرکے پورے خطے کے امن و استحکام کو خطرے میں ڈال رکھا ہے۔ عالمی برادری، بالخصوص اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی سنگین صورتحال کا نوٹس لے، بھارت کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے روکے اور تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرانے کے لیے کردار ادا کرے۔ آخر میںشہید قائد اور تحریکِ آزادی کشمیر کے دیگر شہداءکے درجات کی بلندی، مغفرت اور تحریکِ آزادی کی کامیابی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔



