APHC-AJK

مظفرآباد:سید علی گیلانی کی برسی کے موقع پر سیمینار کاانعقاد

مظفرآباد: بابائے حریت سید علی گیلانی کی پانچویں برسی کے موقع پر کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر شاخ اور جموں و کشمیر لبریشن سیل کے زیراہتمام پرائم منسٹر ہائوس مظفرآباد میں ایک عظیم الشان سیمینار منعقد کیا گیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سیمینار کی صدارت حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر شاخ کے کنوینر غلام محمد صفی نے کی جبکہ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے سابق سپیکر چوہدری لطیف اکبر مہمان خصوصی تھے۔تقریب میں حریت رہنمائوں، سیاسی، سماجی اور مذہبی تنظیموں کے نمائندوں، دانشوروں، اساتذہ، مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اور طلبا و طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔مقررین نے سید علی گیلانی کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کشمیریوں کے حق خودارادیت کی جدوجہد میں ان کی زندگی کو عزم، قربانی، نظریاتی وابستگی اور اصولی سیاست کی مثال قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ سید علی گیلانی نصف صدی سے زائد عرصے تک قید، گھر میں نظربندی اور بھارت کی طرف سے ان پر عائد دیگر پابندیوں کے باوجود اپنے سیاسی عقائد پر ثابت قدم رہے۔مقررین نے کہا کہ سیدعلی گیلانی چاہتے تھے کہ جموں و کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ طاقت یا یکطرفہ دعوئوں سے نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کا تعین کشمیری عوام کی آزادی اور حق خودارادیت کے مطابق ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ان کا نعرہ، "ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے”، ان کے سیاسی نظریے اور کشمیر کے مستقبل کے لیے ان کے وژن کی عکاسی کرتا ہے۔اپنے صدارتی خطاب میںغلام محمد صفی نے کہا کہ سیمینار میں نوجوانوں اور خواتین کی شرکت کا مقصد نئی نسل کو سید علی گیلانی کی سیاسی فکر اور کشمیر پر ان کے موقف کی تاریخی بنیادوں سے روشناس کرانا ہے۔انہوں نے کہا کہ سیدعلی گیلانی نے بھارت کے اس دعوے کو مسترد کیا کہ کشمیر اس کا اٹوٹ انگ ہے اور کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام کو اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ سیدعلی گیلانی کی پاکستان کے ساتھ وابستگی گہری نظریاتی اور جذباتی وابستگی پر مبنی تھی اور یہ محض ایک سیاسی نعرہ نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ کشمیری قیادت نے تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے مذاکرات سمیت پرامن اور جمہوری طریقے اختیار کیے لیکن ان کی سیاسی خواہشات اور مینڈیٹ کا احترام نہیں کیا گیا۔غلام محمد صفی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ کشمیری عوام ان کی رضامندی کے بغیر ان پر مسلط کسی بھی سیاسی انتظام کو قبول نہیں کریں گے اور اپنے حق خودارادیت کا مطالبہ کرتے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ تنازعہ کشمیر بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے اور اسے محض ترقیاتی منصوبوں، اقتصادی مراعات یا بنیادی ڈھانچے کی سکیموں کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا۔سیدعلی گیلانی کے نظریے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیاسی آزادی اور انسانی وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔غلام محمد صفی نے مزید کہا کہ سید علی گیلانی نے کشمیری قیادت، پاکستان اور بھارت کے درمیان سہ فریقی مذاکرات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام کی حقیقی نمائندگی کے بغیر مسئلہ کشمیر کا کوئی پائیدار تصفیہ نہیں ہو سکتا۔شرکا نے عالمی برادری، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کے غیر قانونی طور پر زیر قبضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کا فوری نوٹس لیں، شہری آزادیوں کی بحالی کو یقینی بنائیں، سیاسی قیدیوں کی رہائی اور بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ کریں۔مقررین نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن و استحکام کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں، بین الاقوامی قانون اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کا منصفانہ اور دیرپا حلضروری ہے۔سیمینار کے اختتام پر شرکا نے کشمیری عوام کے سیاسی اور جمہوری حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ سید علی گیلانی کا نظریہ اور ثابت قدمی آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ رہے گی۔سینئر حریت رہنما شمیم شال، شیخ محمد یعقوب، سیکرٹری ہائر ایجوکیشن اینڈ سیکرٹری لبریشن سیل چوہدری عبدالرحمن، رجسٹرار آزاد کشمیر یونیورسٹی سعادت حنیف ڈار، ڈائریکٹر لبریشن سیل سردار ساجد محمود، ڈپٹی ڈائریکٹر لبریشن سیل شائستہ افتخار۔ شگفتہ بخاری، پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما شوکت جاوید، امیر جماعت اسلامی مظفرآباد راجہ آفتاب، ارشد بخاری، سید گلشن، مشتاق الاسلام، عبدالمجید میر، مشتاق احمد بٹ، عزیز غزالی، چوہدری فیروز الدین، جہانگیر قریشی، اظہر منشی، منیر حسین، کرسمس اور دیگر نے شرکت کی۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button