مجھے قتل کے جھوٹے مقدمے میں پھنسایاگیا ہے : یاسین ملک
سرینگر: غیرقانونی طورپر نظربند جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے 1990 میں کشمیری پنڈت نرس سرلا بٹ کے اغوا اور قتل سے متعلق الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے سیاسی بنیادوں پر گھڑی گئی کہانی قرار دیا ہے جس کا مقصد تحریکِ آزادی کشمیر کو بدنام کرنا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق عدالت میں جمع کرائے گئے ایک حلف نامے میں یاسین ملک نے کہا کہ 36 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد انہیں اس مقدمے میں پھنسایاگیا ہے، حالانکہ ابتدائی تحقیقات میں ان کا نام بھی شامل نہیں تھا۔ اپریل 1990 میں سرلا بٹ کے قتل کے سلسلے میں جون میں دائر کی گئی چارج شیٹ میں پہلی مرتبہ یاسین ملک کا نام بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارے ایس آئی اے نے شامل کیا۔یاسین ملک نے عدالت کو بتایا کہ چارج شیٹ دائر کیے جانے سے قبل تین افسران نے نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں ان سے ملاقات کی اور جائے وقوعہ سے ملنے والے ہاتھ سے لکھے ایک نوٹ کا حوالہ دیا،جس میں مبینہ طور پر ان کے ساتھ جاوید میر اور شیخ عبد الحمید کے نام بھی درج تھے۔ یاسین ملک نے اس دعوے کے وقت اور اس کی صداقت پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ اگر تحقیقات کے دوران یہ مبینہ نوٹ موجود تھا تو تفتیش کاروں نے مقدمے کی ابتدائی تحقیقات میں ان کا یا نوٹ میں مذکور دیگر افراد کا نام کیوں شامل نہیں کیا؟انہوں نے حلف نامے میں کہاکہ کئی دہائیوں بعد یہ مو¿قف اچانک کس قانونی یا حقائق کی بنیاد پر سامنے آیا ہے؟ اگر ایسا کوئی نوٹ موجود تھا تو اس وقت کے تفتیش کاروں کی نظروں سے اوجھل نہیں رہ سکتا تھا۔جون میں ایس آئی اے کی جانب سے پوچھ گچھ کے دوران یاسین ملک سے سوال کیا گیا کہ آیا جے کے ایل ایف کو سرلا بٹ پر بھارتی فورسز کو معلومات فراہم کرنے کا شبہ تھا اور کیا انہوں نے 8 اپریل 1990 کو سرینگر کے ڈاو¿ن ٹاو¿ن علاقے میں نروارا میں چھاپے کے بعد ان کے قتل کا حکم دیا تھا۔یاسین ملک نے کہا کہ میں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ یہ الزام مکمل طور پر غلط ہے۔ نہ تو سرلا بٹ کسی خفیہ حیثیت میں بھارتی فورسز کے لیے کام کر رہی تھیں اور نہ ہی وہ کسی طور نروارا میں ہونے والی کارروائی کی ذمہ دار تھیں۔جے کے ایل ایف چیئرمین نے کہا کہ انہیں سرلا بٹ کے قتل کا علم پہلی بار 21 فروری 1991 کو اس وقت ہوا جب وہ عدالتی حراست میں تھے۔یاسین ملک نے واضح کیا کہ مقدمہ نہ لڑنے کا ان کا فیصلہ ذاتی حالات اور سیاسی بنیادوں پر تھا اور اسے جرم کے اعتراف کے طور پر نہیں لیا جا سکتا۔ انہوں نے عدالت سے کہا کہ موجودہ کارروائی سیاسی حالات اور فیصلوں کے نتیجے میں سامنے آئی ہے۔ میرا یقین ہے کہ مجھے اس مقدمے میں پھنسایا گیا ہے۔ میرے فیصلے کو استغاثہ کے کسی بھی دعوے، جرم کے اعتراف یا میرے خلاف عائد الزامات کو تسلیم کرنے کے طور پر نہیں لیا جانا چاہیے۔



