مقبوضہ جموں و کشمیر

جامع مسجد سرینگر میں مجلسِ رحمت للعالمین ﷺ کا انعقاد

 

سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں ماہِ ربیع الاول کے سلسلے میں سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں خصوصی مجلسِ رحمت للعالمین ﷺ منعقد ہوئی جس میں ممتازعلمائے کرام ، نعت خوانوں اور بڑی تعداد میں عقیدت مندوں نے شرکت کی۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ روحانی اجتماع جمعہ کے روز انجمن اوقاف جامع مسجد کے زیرِ اہتمام منعقد ہوا۔ مفتی نذیر احمد قاسمی اور مولانا شوکت حسین کینگ سمیت ممتاز علمائے کرام نے مجلس سے خطاب کیا اور حضرت محمدمصطفےٰ ﷺ کی سیرتِ طیبہ کے مختلف پہلوو¿ں پر روشنی ڈالی۔ مقررین نے ایمان، رحمت، عدل، اخلاقی کردار اور انسانیت کی خدمت پر مبنی آپﷺ کے آفاقی اور لازوال پیغام کو اجاگر کیا۔ نعت خواں حضرات نے بھی بارگاہِ رسالت مآبﷺ میں عقیدت کے نذرانے پیش کیے جس سے مجلس کا روحانی ماحول مزید پ±رکیف ہوگیا۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میرواعظ عمر فاروق کو جنہیں مجلس کی صدارت اور اختتامی دعا کرانا تھی، ایک بار پھر گھر میں نظر بند کر دیاگیا اور انہیں جامع مسجد میں منعقدہ تقریب میں شرکت سے روک دیا گیا۔انجمن اوقاف جامع مسجد نے میرواعظ کی بار بار نظر بندی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنی مذہبی ذمہ داریاں ادا کرنے اور تاریخی مسجد میں نمازیوں سے خطاب کرنے سے روکنا انتہائی افسوسناک ہے اور کشمیری عوام کے مذہبی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہے۔
اس موقع پر دو خصوصی علمی تقاریب بھی منعقد ہوئیں۔ پہلی تقریب میں قرآنِ کریم کے کشمیری زبان میں لفظ بہ لفظ ترجمے پر مشتمل تین جلدوں کے مجموعے کی رونمائی اور پذیرائی کی گئی جو شوپیاں سے تعلق رکھنے والے گلزار احمد پرے کا شاندار کارنامہ ہے۔ اس کاوش کو کشمیری زبان بولنے والے لوگوں تک قرآنِ کریم کے پیغام کو زیادہ قابلِ فہم انداز میں پہنچانے اور وادی میں قرآنی علوم و تحقیق اور خدمت کی طویل روایت کو آگے بڑھانے میں ایک اہم قدم قرار دیا گیا۔دوسری تقریب میں نوجوان عالم دین مفتی شوکت احمد قاسمی کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا جو دارالعلوم دیوبند کے فاضل اور سرینگر کے علاقے لال بازار میں واقع دارالعلوم بلالیہ کے سابق طالب علم ہیں۔ پروگرام کے دوران بتایا گیا کہ انہوں نے صحیح بخاری کی تمام 7,563 احادیث حفظ کرکے ایک غیر معمولی اعزاز حاصل کیا ہے۔ ان کی اس کامیابی کو کشمیر کی ممتاز علمی و دینی روایت اور علمِ حدیث کے میدان میں ایک اہم کار نامہ قرار دیا گیا۔گلزار احمد پرے اور مفتی شوکت احمد قاسمی دونوں کو اپنی اپنی علمی و دینی خدمات کے اعتراف میں اعزاز سے نوازا گیا۔مجلس کا اختتام عوام کی فلاح و بہبود، امن و خوشحالی اور انفرادی و اجتماعی زندگی میں پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفےٰ کی تعلیمات اور اسوہ حسنہ پر عمل کرنے کی توفیق کے لیے خصوصی دعاو¿ں کے ساتھ ہوا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button