ہندوارہ میں مضحکہ خیز الزام پر لاکھوں روپے کی جائیداد ضبط

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی پولیس نے عنایت اللہ خان کے36 لاکھ روپے کے رہائشی مکان کوضبط کر تے ہوئے اس پر غیرقانونی سرگرمیوں سے حاصل ہونے والی رقم سے مکان کی تزئین و آرائش کا مضحکہ خیز الزام لگایا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق یہ جائیداد انسداد منشیات کے قانون کے تحت درج ایک کیس کے سلسلے میں ضبط کی گئی ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کشمیریوں کو ان کی جائیدادوں سے محروم کرنے کے لئے مضحکہ خیز الزامات کا سہارا لیارہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات کا مقصد تحریک آزادی سے وابستہ افراد اور کمیونٹیز کو نشانہ بنا نا ہے۔ انہوں نے کہاکہ انہیںمعاشی طورپر کمزورکرنے کے لئے انسداد منشیات اور انسداد دہشت گردی کے قوانین کو ہتھیار کے طورپر استعمال کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ مبہم الزامات کے تحت گھروں اور زمینوں کو ضبط کرکے سیاسی اختلاف رائے رکھنے والوں کو سزا دی جارہی اور ہراساں کیا جارہا ہے اور اس طرح حق خودارادیت کے مطالبے پر سمجھوتہ نہ کرنے والوں کو جان بوجھ کر معاشی طورپر کمزورکیا جارہا ہے۔








