سیاسی جماعتوں کی یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی بی جے پی کی کوشش پرکڑی تنقید
نئی دہلی:بھارت میں سیاسی جماعتوں نے وزیر داخلہ امیت شاہ کے اس اعلان پرسخت ردعمل ظاہر کیا ہے کہ 2029کے لوک سبھا انتخابات سے قبل این ڈی اے کے زیر اقتدار تمام 21ریاستوں میں یکساں سول کوڈ نافذ کیا جائے گا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سیاسی جماعتوں اورحکومت کی اتحای جماعتوں کی جانب سے یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی شدید مخالفت سے حکمران اتحاد کے اندر موجود اختلافات بے نقاب ہو گئے ہیں۔امیت شاہ نے اتوار کو ممبئی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاتھاکہ "تین طلاق کا خاتمہ کر کے مسلم خواتین کو مساوی حقوق دیے گئے ہیں۔ کئی ریاستوں میں یکساں سول کوڈ متعارف کرایاگیا ہے اور بی جے پی اور این ڈی اے کے زیر اقتدار 21ریاستوں میں 2029سے قبل یکساں سول کوڈ نافذ کر دیا جائے گا۔اپوزیشن جماعتوں ڈی ایم کے ، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا ماکسسٹ اور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین نے یکساں سول کوڈ کے جبری نفاذ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے بی جے پی پر فرقہ وارانہ اور اکثریتی سیاست کے لیے یو سی سی کو استعمال کرنے کا الزام عائد کیاہے۔ سی پی آئی-ایم نے کہا کہ یکسانیت کا مطلب لازمی طور پر مساوات نہیں ہے اور بی جے پی اپنے ‘ہندوتوا’ ووٹ بینک کو مستحکم کرنے کے لیے مساوی حقوق کے ایک پیچیدہ مسئلے کو بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہے۔ڈی ایم کے رہنما ٹی کے ایس ایلانگوون نے اس اقدام کو آئین اور آرٹیکل 25کی خلاف ورزی قرار دیا جبکہ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی نے کہا کہ بی جے پی یو سی سی صرف 180ملین مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے لیے نافذ کر رہی ہے اور یہ آئین کے آرٹیکلز 14، 25، 26 اور 29 کی واضح خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یو سی سی کا نفاذ غیر ہندوئوں پر ہندو قانون مسلط کرنے کے مترادف ہوگا۔
ادھر بی جے پی کی اہم اتحادی جماعت جنتا دل(یونائیٹڈ)نے بہار میں اس متنازع قانون کو متعارف کرانے کی کسی بھی کوشش کو واضح طور پر مسترد کر دیا ہے، جس سے ہندوتوا جماعت کو شدید دھچکا پہنچا ہے ۔








