امتحانات میں بے ضابطگیوں کے خلاف بہارمیں طلباءکا شدید احتجاج
وزیر اعلیٰ کی رہائشگاہ کو گھیرنے کی کوشش، مظاہرین پر طاقت کا وحشیانہ استعمال
پٹنہ : بی جے پی کے زیر اقتداربھارتی ریاست بہارکے دارالحکومت پٹنہ میں طلبا نے مختلف مقابلہ جاتی امتحانات میں بے ضابطگیوں کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے امتحانات کی غیر جانبداری اور طریقہ کارپر سوال اٹھایا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطا بق بھارتی ذرائع ابلاع کی رپورٹس میں کہاگیا ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں طلبا سڑکوں پر نکل آئے۔ مشتعل طلبا وزیر اعلیٰ کی رہائش کا گھیراﺅ کرنے کے لئے گاندھی میدان سے نکلے تو جے پی گولمبر کے مقام پرپولیس نے رکاوٹیں کھڑی کرکے مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی ۔ لیکن طلبا کی تعداد اس قدر زیادہ تھی کہ انھوں نے لوہے کے بیریکیڈس کو توڑ دیا اور اس کے اوپر چڑھ گئے۔ پولیس نے طلبا کے خلاف لاٹھی چارج سمیت طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا ۔ طلبا کاکہنا ہے کہ70ویں بی پی ایس سی امتحان اور داروغہ بحالی کے طریقہ کار میں بے ضابطگیاں ہوئی ہیں، اس لیے انہیں فوراً منسوخ کیا جائے۔ طلبا نے مطالبہ کیا کہ بی ایس ایس سی کے لٹکے ہوئے امتحانات کو بغیر کسی تاخیر کے جلد از جلد منعقد کیا جائے۔ طلبا نے بھرتی کے عمل میں شفافیت یقینی بنانے اور بے ضابطگیوں کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
طلبا کے مظاہرے پر کانگریس کا رد عمل بھی سامنے آیا ہے۔کانگریس نے ’ایکس‘ پر جاری ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانا طلبا کا حق ہے، جسے کسی بھی قیمت پر روندا نہیں جا سکتا۔ بی جے پی کو طلبا پر لاٹھیاں چلانے کے بجائے ان سے بات کرنی چاہیے اور معاملے کی تحقیقات کرانی چاہیے۔








