الطاف وانی کا مقبوضہ جموں و کشمیر میں کرائے کے جنگجواور نگرانی کی جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی تحقیقات کا مطالبہ
جنیوا: ورلڈ مسلم کانگریس کے نمائندے الطاف حسین وانی نے بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کرائے جنگجوئوںاور نگرانی کی جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق الطاف وانی نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 63ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کرائے کے جنگجوں کے استعمال سے متعلق اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ کی رپورٹ کا خیرمقدم کیا اور خبردار کیا کہ نجی فوجی و سکیورٹی کمپنیوں کی کارروائیوں میں جدید ٹیکنالوجی کا بڑھتا ہوا استعمال انسانی حقوق اور جوابدہی کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہا ہے۔مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے نجی ملیشیا، کرائے کے جنگجو گروپوں کے استعمال اور شہریوں کے خلاف ان کی جابرانہ کارروائیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ ایسی کارروائیوں میں غیر ریاستی عناصر کا استعمال ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیوں سمیت انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوںپر جوابدہی سے بچنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
الطاف وانی نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جدید نگرانی کی ٹیکنالوجی کے استعمال کی جانب خصوصی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ اس میں مصنوعی ذہانت پر مبنی نگرانی، بائیومیٹرک ٹریکنگ اور ڈیجیٹل نگرانی شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسی ٹیکنالوجی کے استعمال نے شہریوں کی وسیع پیمانے پر نگرانی کو ممکن بنا دیا ہے اور اسے سیاسی اختلاف رائے کو دبانے اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو نشانہ بنانے کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں نگرانی کی ٹیکنالوجی کے استعمال کو محض سکیورٹی کے نقط نظر سے نہیں دیکھا جا سکتا، کیونکہ شہریوں کے خلاف اس کے استعمال سے رازداری، آزادی اظہار، نقل و حرکت کی آزادی اور دیگر بنیادی حقوق کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا ہوتے ہیں۔
ورلڈ مسلم کانگریس کے نمائندے نے خبردار کیا کہ نجی مسلح جتھوں اور نگرانی کی جدید ٹیکنالوجی کا استعمال مقبوضہ جموں و کشمیر میں ایک انتہائی خطرناک صورتحال پیدا کر رہا ہے، جہاں ٹیکنالوجی کواختلاف رائے کو دبانے اور جوابدہی سے بچنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔الطاف وانی نے انسانی حقوق کونسل اور اقوام متحدہ کے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں نجی ملیشیا کے کردار اور نگرانی کی جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی آزادانہ اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائیں۔انہوں نے کونسل پر زور دیا کہ وہ بھارت پر دباوڈالے کہ نجی اداروں کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا سلسلہ بند کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ نگرانی کی ٹیکنالوجی شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے لیے استعمال نہ ہو۔









