یکساں سول کوڈ مذہبی و ثقافتی شناختوں کے لیے خطرہ بن سکتاہے:نیشنل کانفرنس
سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں نیشنل کانفرنس نے بھارت کی 21ریاستوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے یکساں سول کوڈ (UCC) نافذ کرنے کے منصوبے کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اسے سماجی تانے بانے کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق نیشنل کانفرنس کے رہنما اور راجیہ سبھا کے رکن شمی اوبرائے نے یکساں سول کوڈ کے نفاذ کے خلاف پارٹی کے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مجوزہ قانون مختلف برادریوں کے عائلی قوانین، مذہبی رسومات اور صدیوں پرانی روایات میں مداخلت کا باعث بن سکتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس اقدام سے مذہبی اور ثقافتی شناختیں متاثر ہو سکتی ہیں۔پارٹی ہیڈکوارٹرز میں صحافیوںسے گفتگو کرتے ہوئے شمی اوبرائے نے کہاکہ بھارت کی طاقت اس کے کثیرالجہتی معاشرے میں ہے جو ثقافتی، مذہبی اور لسانی تنوع کی خصوصیت رکھتا ہے۔ مختلف برادریوں کی روایات اور شخصی قوانین کے تحفظ کے لیے آئینی ضمانتوں کا احترام کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ معاشرے کے تمام طبقات پریکساں قانونی نظام مسلط کرنے کی کوئی بھی کوشش بنیادی تنوع کو کمزور کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی خوبصورتی اس کے تنوع میں مضمر ہے، جو اس کی جمہوری اور سیکولر شناخت کی بنیاد ہے۔انہوں نے کہا کہ برادریوں کو یکساں قانونی ڈھانچے میں ڈھلنے پر مجبور کرنے کے بجائے ان کے حقوق اور بنیادی آزادیوں کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس ایسے کسی بھی اقدام کی حمایت نہیں کر سکتی جو مختلف مذہبی اور ثقافتی برادریوں کے جائز حقوق اور شناختوں کے لیے خطرہ بنے۔








