مودی حکومت کے زبانی وعدوں پر بھروسہ کرنے کی بجائے تحریری ضمانت طلب کریں
کٹھ پتلی وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کا لہہ اورکارگل کے رہنمائوں کو مشور ہ
سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں کٹھ پتلی وزیراعلی عمر عبداللہ نے لہہ اور کارگل کے رہنمائوں سے کہاہے کہ وہ مودی حکومت کی زبانی یقین دہانیوں پر انحصار کرنے کے بجائے تحریری ضمانتیں طلب کریں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق عمر عبداللہ نے پلوامہ میں ایک اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی سے متعلق مودی حکومت کی یقین دہانیوں کا حوالہ دیا اورکہا کہ مودی حکومت نے کشمیری عوام سے بھی زبانی وعدہ کیا تھا کہ انتخابات کے بعد ریاستی درجہ بحال کر دیا جائے گا۔تاہم حکومت نے ابھی تک اپنا وعدہ پورانہیں کیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم بھی مودی حکومت کے زبانی وعدے کا شکار بنے ہیں۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ انتخابات کے فورا بعد ریاستی حیثیت بحال کر دی جائے گی۔ تقریبا دو سال گزرنے کے بعد بھی اس وعدے پرعمل درآمد نہیں ہو سکا ہے۔عمرعبداللہ نے لہہ اور کرگل کے رہنمائوں پر زور دیا کہ وہ مودی حکومت کے وعدوں پر انحصار کرنے کی بجائے تحریری ضمانتیں طلب کریں اور بہتر ہوگا کہ یہ ضمانتیں حلف نامے کی شکل میں ہوں۔انہوں نے کہا کہ لداخ کے مسائل جموں و کشمیر سے مختلف نوعیت کے ہیں، لیکن سرکاری وعدوں پر بھروسہ کرنے سے پہلے تحریری ضمانتیں حاصل کرنا اہم ہے۔
واضح رہے کہ لہہ اور کارگل کے عوام خطے کی الگ ریاستی شناخت اور چھٹے شیڈول میں شمولیت اوردیگرمطالبات کے حق میں اپنی پر امن جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔







