اترپردیش: ہندو انتہا پسندوں نے مسلمان تاجر کوبہیمانہ تشددد کا نشانہ بنایا
مودی کے بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا جاتا ہے، سوشل میڈیا صارفین
لکھنو:ریاست اتر پردیش کے ضلع کوشامبی میں ہندو انتہا پسندوں نے بھینسوں کے ایک مسلمان تاجر کو انتہائی تذلیل اوربہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق واقعہ کوشامبی کے کراری تھانہ علاقے کے جمدورا نامی مقام پر پیش آیا۔ متاثرہ تاجر، جن کی شناخت افشار علی کے نام سے ہوئی ہے، اپنے سسرال سے گھر واپس لوٹ رہاتھا کہ ہندو ﺅں کے ایک گروپ نے انہیں راستے میں روک روکا اور ان کی کمائی کے بارے میں سوالات اٹھائے۔ ملزمان نے طنز کرتے ہوئے کہا، تم اتنا کماتے ہو، کیا ہمیں تھوڑی شراب بھی نہیں پلا سکتے؟ جب تاجر نے رقم دینے سے انکار کیا تو معاملہ بڑھ گیا۔
ملزمان نے افشار علی پر شدید تشدد کیا، انہیں بے رحمی سے مارا پیٹا اور ان کی جیب سے 4ہزار سے زائد رقم چھین کر فرار ہو گئے۔ متاثرہ شخص نے کراری تھانے میں شکایت درج کروائی۔ تاہم بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس نے ان کی شکایت پر فوری کارروائی نہیں کی۔ اس واقعے سے متعلق ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس افشار علی کو ہندو ﺅں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔
سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اس میں ملوث افراد کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔
انٹرنیٹ صارفین بھی مبینہ ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ایک صارف نے ” ایکس“ پر لکھا، ”مودی کے بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا جاتا ہے۔ اس ملک میں مسلمان اب محفوظ نہیں ہیں۔”
ایک اورصارف نے مزید لکھا”تمام ثبوت موجود ہیں۔ کیا پولیس اب ان ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کرے گی اور کیا متاثرہ شخص کو انصاف ملے گا؟“








