جنیوا :کشمیری وفد کی او آئی سی کے مستقل مندوب سے ملاقات
مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال سے آگاہ کیا
جنیوا: جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے جاری اجلاس کے موقع پرکشمیری وفد نے اسلامی تعاون تنظیم کے مستقل مندوب سعید سرور سے ملاقات کی اور انہیں بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کی موجودہ سیاسی، انسانی حقوق اور سماجی صورتحال سے آگاہ کیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کشمیری وفد میں سردار امجد یوسف، پرویز احمد ایڈووکیٹ، شمیم شال، ڈاکٹر راجہ محمد سجاد خان، ڈاکٹر شگفتہ اشرف اورمہر النسا شامل تھیں ۔ وفد نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے حقِ خود ارادیت کے لیے مسلسل حمایت اور بین الاقوامی سطح پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے میں او آئی سی کے کردار کو سراہا۔ وفد نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔وفد نے او آئی سی کے مستقل مندوب کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں ظلم و تشدد ، قتل عام ، گرفتاریوں ، سیاسی رہنمائوں اور کارکنوں کی طویل نظربندیوں، شہری آزادیوں پرقدغن اور انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کے بارے میں بریفنگ دی۔کشمیری نمائندوں نے خاص طور پر حریت رہنمائوں محمد یاسین ملک، آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کیخلاف جاری جھوٹے مقدمات کا ذکر کیا جبکہ حریت چیئرمین مسرت عالم بٹ، شبیر شاہ، نعیم احمد خان اور دیگر کشمیری سیاسی رہنمائوں اور کارکنوں کی طویل نظربندیوں کو بھی اجاگر کیا۔ وفد نے غیر قانونی طورپر نظربند کشمیریوں کے لیے منصفانہ ٹرائل، قانونی حقوق اور انصاف تک رسائی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔وفد نے 5اگست 2019کے بعدبھارتی قابض انتظامیہ کی طرف سے متعارف کرائے گئے آئینی، قانونی اور انتظامی اقدامات پرسخت تشویش کا اظہار کیا۔ ان اقدامات نے مقبوضہ کشمیر کے آبادی کے تناسب کو بگاڑنے کے حوالے سے خدشات کو جنم دیا ہے۔
اس موقع پر خاص طور پر ‘نصف بیوائوں’جن کے شوہروں کو حراست کے دوران لاپتہ کردیاگیا ہے حوالے سے بھی بتایاگیا۔کشمیری وفد نے کہا کہ جن خواتین کے شوہر لاپتہ ہو چکے ہیں انہیں مسلسل سنگین قانونی، معاشی اور سماجی مشکلات کا سامنا ہے جبکہ ان کے بچوں کو بھی وراثت، جائیداد، شناختی دستاویزات، روزگار اور دیگر بنیادی حقوق کے حصول میں چیلنجز کا سامنا ہے۔ کشمیری وفد نے او آئی سی پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل اور دیگر متعلقہ بین الاقوامی فورمز پر مقبوضہ جموں و کشمیر کی سنگین صورتحال کو اجاگر کرنے کا سلسلہ جاری رکھے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بین الاقوامی نگرانی اور آزادانہ تحقیقات کی حمایت کرے۔وفد نے او آئی سی سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ وہ سیاسی قیدیوں، جبری گمشدگیوں کا شکار افراد، ‘نصف بیوائوں’اور ان کے بچوں کے حقوق کے لیے اپنی بین الاقوامی وکالت کو مزید مضبوط بنائے۔کشمیری وفد نے پرامن اور سفارتی ذرائع سے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے حصول کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر کے دیرینہ تنازعے کے پرامن حل اور کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کرے۔









